’ٹرمپ کو جنرل فلن کے معاملے کا کئی ہفتوں سے پتا تھا‘

ٹرمپ اور فلن تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اور عوام کو گمراہ کرنے کے بعد صدر ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلن کو معلوم تھا کہ انھیں اپنا عہدہ چھوڑنا ہی ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنرل فلن کی روسی سفیر کے ساتھ بات چیت کے معاملے کا کئی ہفتوں سے علم تھا۔

روس سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن پابندیاں ہٹانے کی بات قبل ازوقت: صدر ٹرمپ

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں وزارتِ قانون نے صدر ٹرمپ کو بتایا تھا کہ ممکن ہے جنرل فلن نے امریکی حکام سے جھوٹ بولا ہو۔

شان سپائسر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا اب بھی یہی موقف ہے کہ جنرل فلن نے کچھ غلط نہیں کیا اور انھیں صرف اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی وجہ سے نکالا گیا ہے۔

اس سے قبل جنرل فلن کے معاملے پر وائٹ ہاؤس کے مشیر کیلی این کانوے نے کہا تھا کہ نائب صدر کو گمراہ کرنے کے بعد صدر ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلن کو معلوم تھا کہ انھیں عہدہ چھوڑنا ہی ہوگا۔

کیلی این کانوے کا کہنا تھا کہ مائیکل فلن کو معلوم تھا کہ وہ اب ایسی شخصیت بن گئے ہیں جن کی حمایت کے لیے انتظامیہ کچھ نہیں کر سکتی اور انھوں نے اسی لیے یہ فیصلہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل مائیکل فلن نے گذشتہ روز امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی حکام سے بات چیت کے الزامات پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

ان کی جگہ عارضی طور پر یہ ذمہ داری ریٹائرڈ جنرل جوزف کیتھ کیلوگ نے سنبھالی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ادھر کانگریس میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے اراکین نے کانگریس کی جانب سے جنرل فلن کی مذکورہ بات چیت کی چھان بین کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

اگر جنرل فلن پر لگائے گئے الزامات درست ہیں تو ان کے اقدامات مجرمانہ ہوں گے۔ جنرل فلن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل روسی سفیر کے ساتھ امریکی پابندیوں کے بارے میں بات کی تھی۔

کیلی این کانوے کا کہنا تھا کہ نائب صدر سے غلط بیانی کرنا ہی جنرل فلن کا وہ اقدام ہے جس کی وجہ سے بات انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے اس بارے میں اپنی بریفنگ میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے جنرل فلن سے استعفیٰ اس لیے مانگا کیونکہ ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی تھی۔

امریکی میڈیا میں یہ باتیں سامنے آئیں تھیں کہ وزارت انصاف نے وائٹ ہاؤس کو گذشتہ ماہ ہونے والے رابطوں کے بارے میں متنبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فلن روس کی بلیک میلنگ سے متا‎‎ثر ہو سکتے ہیں۔

جنرل مائیکل فلن اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بنے جب میڈیا میں ان کے بارے میں یہ اطلاعات آئیں کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل روسی سفیر کے ساتھ امریکی پابندیوں کے بارے میں بات کی۔

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے جنرل فلن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی تاہم اس تردید کے بعد مائیکل فلن نے حکام کو بتایا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پابندیوں پر بات چیت کی گئی ہو۔

ادھر روس کے صدارتی ترجمان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی سفیر اور جنرل فلن نے پابندیاں اٹھانے کے بارے میں بات نہیں کی۔

اسی بارے میں