فلسطینی ریاست کا قیام: ’ضروری نہیں کہ دو ریاستی حل ہی واحد حل ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان پہلی ملاقات بدھ کو ہو گی

وائٹ ہاؤس کے ایک افسر کے مطابق ضروری نہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کا واحد دو ریاستوں کا قیام ہی ہو۔

مذکورہ افسر کے اس بیان کو امریکہ کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے ہر امریکی حکومت اس تنازعے کے ’دو ریاستی حل‘ کی حمایت کرتی رہی ہے جس کے تحت ایک الگ فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور دیا جاتا ہے۔ لیکن منگل کو وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر افسر نے تجویز دی کہ امریکہ دو ریاستی حل کے علاوہ بھی اس قسم کے کسی حل کی حمایت کرے گا جو جس پر فلسطینی اور اسرائیل دونوں متفق ہو جائیں۔ اس تجویز کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اس تنازعے کے حل کے حوالے سے اپنے دیرنہ مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہو سکتا ہے۔

امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا عندیہ دینے والے وائٹ ہاؤس کے افسر کا نام مظر عام پر نہیں آیا ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مذکورہ افسر نے بتایا کہ:’(ہمارا) مقصد امن کا قیام ہے، چاہے وہ دو ریاستی حل کی شکل میں ہو یا کوئی ایسا دوسرا حل جو دونوں فریقوں کو منظور ہو۔‘

وائٹ ہاؤس کے افسر کا مذکورہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اسرائیلی اور امریکی قیادت کے درمیان پہلی ملاقات ہونے جا رہی ہے، جس کے لیے اسرائیلی وزیراعظم امریکہ میں موجود ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ وہ امن ممکن ہے جس کی بات ایک عرصے سے ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی مکمل حمایت کریں گے اور ان تعلقات کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کریں گے جو صدر اوباما کے دور میں خراب ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ سابق صدر اوباما مقبوضہ غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کے قیام کے شدید ناقد تھے۔

خبر رساں ادارے اسیوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ جب امریکی دفتر خارجہ کے افسران سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں بے خبر ہیں۔

ادھر فلسطینی حکام نے بھی وائٹ ہاؤس کے افسر کے مذکورہ بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ تتظیمِ آزادۂ فسطین ( پی ایل او) کی مجلس عاملہ کی رکن حنان اشروی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ پالیسی کوئی ذمہ دارانہ حمکت عملی نہیں ہے اور اس سے امن کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دو ریاستی حل کوئی ایسا حل نہیں جو ہم نے سوچے سمجھے بغیر ہی تجویز کر دیا تھا۔‘

اسی بارے میں