چین شمالی کوریا سے ناراض، کوئلے کی درآمد معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کوئلے کی برآمدگی شمالی کوریا کی کمزور میعشت کے لیے اہم سہارا ہے

شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ میزائل ٹیسٹ کے بعد چین نے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہاں سے کوئلے کی درآمد معطل کر دی ہے۔

چینی حکام کے مطابق یہ پابندی رواں سال کے آخر تک قائم رہے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ چین نے شمالی کوریا سے آنے والی کوئلے کی ایک کھیپ کو واپس بھیج دیا تھا۔

چین شمالی کوریا کا واحد اتحادی ہے اور کوئلے کی درآمد پر پابندی سے وہ شمالی کوریا کے جوہر پروگرام کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں پر مکمل عمل درآمد کے قریب آگیا ہے۔

کوئلے کی برآمدگی شمالی کوریا کی کمزور میعشت کے لیے اہم سہارا ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ چین نے کوئلے کی درآمد پر پابندی شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کے قتل کے چند روز بعد لگائی ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ ’کِم جونگ اُن‘ کے بھائی ’کِم جونگ نام‘ کو کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر شمالی کوریا کے مبینہ جاسوسوں نے زہر دے کر قتل کر دیا تھا۔

’کِم جونگ نام‘ نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر رکھا تھا اور وہ چین کے زیرِ انتظام علاقے مکاؤ میں مقیم تھے، جہاں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ چین کی حکومت کی حفاظت میں ہیں۔

شمالی کوریا کے حوالے سے مغربی ممالک اور امریکہ کا خیال ہے کہ چین شمالی کوریا پر لگائی گئی پابندیوں کے حوالے سے تعاون کرکے ان پابندیوں کو مزید موثر بنا سکتا ہے۔

حال ہی میں امریکہ کے صدر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چین کا شمالی کوریا پر مکمل کنٹرول ہے اور شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کے حوالے سے جو مسائل ہیں انھیں حل کرنے میں چین کو اپنا کردار اد کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے چین کی جانب سے ’مسئلے‘ کو حل نہ کرنے کی صورت میں چین سے تجارت کو مشکل بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔