’کمبوڈیا آنے پر معلوم ہوا کہ دنیا کے بارے میں کتنا کم جانتی ہوں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’نفرت کے سامنے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے‘

ہالی وڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر اینجلینا جولی کے مطابق کمبوڈیا نے انھیں بیدار کیا اور اسی وجہ سے اپنی نئی فلم کا پریمیئر اسی ملک میں کیا ہے۔

اینجلینا جولی نے کمبوڈیا میں کھیمرروج دور میں ہونے والے قتل عام کے دوران ایک سچی کہانی پر مبنی اپنی فلم' فرسٹ دے کلڈ مائی فادر' کے پریمیئر سے پہلے بی بی سی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ان کی فلم کے ذریعے کمبوڈیا کے لوگوں کو اس دور کے صدمات کے بارے میں زیادہ کھل کر بات کرنے میں مدد ملے گی۔

کھیمرروج دور میں تقریباً 20 لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔

اینجلینا جولی پہلی بار 2001 میں اپنے مشہور فلم لارا کرافٹ: ٹامب ریڈر کی شوٹنگ کے لیے کمبوڈیا گئی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے کمبوڈیا سے ہی اپنے سب سے بڑے بیٹے میڈوکس کو گود لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بی بی سی کی یلدا حکیم کو دیے گئے انٹرویو میں اینجلینا جولی نے کہا ہے کہ جب اس ملک میں آئیں تو انھیں یہاں کے لوگوں سے پیار ہو گیا اور انھوں نے اس کی تاریخ کے بارے میں جانا تو انھیں اندازہ ہوا کہ ’میں حقیقت میں دنیا کے بارے میں کتنا کم جانتی ہوں۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ 'میرے لیے یہ ملک میری بیداری تھا۔ اس ملک کی ہمیشہ سے بہت شکر گزار رہی ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں اس کو واپس اتنا کچھ دوں جتنا اس سے مجھے ملا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ میں اس ملک کو کبھی اتنا کچھ دے سکوں گی جتنا کہ اس ملک نے مجھے دیا ہے۔'

جولی نے اپنی فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا کہ جنگ 40 برس قبل ہوئی تھی اور ان لوگوں کے ساتھ کیا ہوا اس کے بارے میں مناسب طور پر بتایا نہیں گیا۔

فلم بنیادی طور پر مقامی خمر زبان میں ہے اور اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انجلینا جولی نے کہا ہے کہ ’وہ چاہتی ہیں کہ دنیا بھی کمبوڈیا میں ہونے والے واقعات کے بارے میں زیادہ بہتر سمجھ سکے اور اس کے ساتھ انھیں امید ہے کہ مقامی سطح پر اس کا اثر پڑے۔

'میں امید کرتی ہوں کہ یہ ملک زیادہ بات کرے، بچ جانے والے بہت سارے لوگوں نے اپنی کہانی اپنے بچوں کو نہیں بتائی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'مشکل وقت'

نیٹ فلکس کی تیار کردہ فلم' فرسٹ دے کلڈ مائی فادر' کا پریمیئر سنیچر کو اسی مندر کے احاطے میں ہوا جہاں انجلینا جولی کی فلم لارا کرافٹ: ٹامب ریڈر کے کچھ مناظر فلمائے گئے تھے۔

فلم کے پریمئیر کے موقع پر انجلینا جولی کے علاوہ ان کے چھ بچے اور کمبوڈیا کے بادشاہ نورودوم سیہامونی بھی شریک تھے جنھوں نے 2005 میں انجلینا جولی کی جانب سے ملک میں ماحولیات پر کام کرنے والے فاؤنڈیشن کے قیام اور اس کی کاررکردگی پر انھیں ملک کے شہریت دی تھی۔

انجلینا جولی نے اپنے شوہر اور معروف اداکار بریڈ پٹ سے گذشتہ برس ستمبر میں ناقابل مفاہمت اختلافات پر علیحدگی کے بعد پہلی مرتبہ کسی بڑے ایونٹ میں شرکت کی ہے۔

بریڈ پٹ اور اینجلینا جولی سنہ 2004 سے ایک ساتھ رہ رہے تھے لیکن 2014 میں باضابطہ شادی کی تھی۔

اس علیحدگی پر اینجلینا جولی کا کہنا تھا کہ 'بہت سے لوگ خود کو اس طرح کی صورتحال میں دیکھتے ہیں، میں، میرا خاندان، ہم سب مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ اور یہ نہیں۔۔۔ میری توجہ میرے بچوں پر ہے۔ میں ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش سے گزر رہی ہوں جس میں یقینی بنایا جا سکے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ہمیں مضبوط اور ایک دوسرے کے قریبی لائے۔

Image caption اینجلینا جولی نے بڑے بیٹے میڈوکس کو کمبوڈیا سے ہی گود میں لیا تھا

'فیصلے خوف کی بجائے حقائق پر ہونے چاہیں'

اینجلینا جولی نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز اخبار میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پناہ گزینوں پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے ردعمل میں ایک کالم لکھا ہے جس میں انھوں نے اپنے ملک سے کہا ہے کہ وہ خوف کی بجائے حقائق پر مبنی فیصلے کرے۔

اینجلینا جولی نے صدر ٹرمپ پر بات کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ 'امریکی لوگ کسی بھی صدر سے بڑے ہیں، جیسا کہ میرا اپنے ملک پر یقین ہے اور ان اقدار پر جن کی بنیاد پر یہ قائم ہوا اور جنھیں ہم تھامے ہوئے ہیں۔'

'میرے خیال میں کئی چیزیں جو ہم سنتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں، وہ خوف پھیلانے یا نفرت یا لوگوں کو نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنے یا کسی رائے کی بنیاد پر ہوتی ہیں اور یہ امریکہ نہیں۔'

’اس وقت میں سمجھتی ہوں کہ حیران کن طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں لوگوں نے اپنی شہری آزادیوں، حقوق اور اپنے احساسات کے بارے میں بات کرنا شروع کی ہے۔ امریکہ میں ہم سن رہے ہیں لوگ کہہ رہے ہیں کہ' یہ میرے لیے امریکی نہیں، یہ میرے لیے غیر آئینی ہے۔ اور میں ایسا ہی ہوں۔‘

اسی بارے میں