عراقی فوج نے مغربی موصل کو گھیرے میں لے لیا

موصل پر حملے کا آغاز تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عراقی فوج نے موصل شہر کے مغربی حصے کو خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم کے قبضے سے چھڑانے کے لیے حملہ شروع کر دیا ہے۔

اتوار کے روز سینکڑوں فوجی گاڑیاں، جنھیں جنگی طیاروں کی مدد حاصل ہے، صحرا میں پیش قدمی کرتے ہوئے موصل میں جہادیوں کے ٹھکانوں کی طرف بڑھ رہی ہیں، اور دیہات سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

عراقی وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے حملہ شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

عراقی فوجیوں نے مغربی موصل کا تقریباً مکمل گھیراؤ کر لیا ہے، جب کہ امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس سال کی ابتدا میں سرکاری فوج نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم کے قبضے سے اس کے آخری ٹھکانے موصل کا مشرقی حصہ آزاد کروا لیا تھا۔

وزیرِ اعظم عبادی نے ٹیلی ویژن پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم اس کارروائی کے نئے مرحلے کا اعلان کرتے ہیں، ہم موصل کے مغربی حصے کو آزاد کروانے کے لیے نینوا آ رہے ہیں۔'

نینوا وہ صوبہ ہے جس کا موصل دارالحکومت ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے کہا: ’ہماری فوجوں نے شہریوں کو داعش کی دہشت سے آزاد کروانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔'

تاہم موصل شہر کے تنگ اور گنجان آباد مغربی حصے پر قبضہ کرنا آسان نہیں ہے۔

ادھر اقوام متحدہ نے موصل پر حملے کے پیشِ نظر وہاں محصور ساڑھے چھ لاکھ شہریوں کے تحفظ کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

عراق کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق پر تعاون کی رابطہ کار لیز گرانڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ عراق نے جب شہر کے مشرقی علاقے کو آزاد کروایا تھا اس وقت بھی اس نے لوگوں کی حفاظت کو اولیت دی تھی۔

عوام کو آگاہ کرنے کے لیے اس علاقے میں طیاروں سے پرچیاں گرائی گئی ہیں۔

ہمارے نمائندے کوئنٹین سمرویلے موصل کے پاس عراقی فوج کے ساتھ ہیں اور انھوں نے فوج کے آپریشن کے ساتھ ہی ٹویٹ کیا:

'مغربی موصل پر قبضے کے لیے جنگ جاری ہے۔ جنوب کے دیہات حملے کی زد میں ہیں۔

'عراق کی ایمرجنسی ریسپانس ڈیویژن دولت اسلامیہ کے قبضے والے علاقے میں تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption محاذ سے ہمارے نمائندے کونٹن کے ٹویٹ اور جاری ہیں اور تصاویر بھی موصول ہو رہی ہیں

انھوں نے اس کے ساتھ تصاویر بھی شيئر کی ہیں اور لکھا ہے کہ ' یہ جنوبی سرحد ہے۔۔۔ ہمارے سر پر ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز اڑ رہے ہیں۔۔۔ یہ بہت بڑا حملہ ہے سینکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور انسان طیاروں کی نگرانی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔'

خیال رہے کہ موصل دولت اسلامیہ کا آخری اہم گڑھ ہے جبکہ شہر سے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کی مہم گذشتہ سال اکتوبر سے جاری ہے۔

گرانڈ نے کہا کہ عراقی فوجیوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو اور اس جنگ میں شریک تمام فریقین وہ تمام طریقے اختیار کریں جس سے شہریوں کی جان محفوظ رہے اور وہ جنگ سے بچ سکیں۔

متعلقہ عنوانات