جنوبی بحیرۂ چین میں امریکی جنگی بیڑے کا گشت، چین کا انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آخری بار اس علاقے میں امریکی طیارہ بردار جہاز دو برس قبل ملائیشیا کے ساتھ ہونے والی بحریہ اور فضائیہ کی مشقوں کے دوران آیا تھ

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے طیارہ بردار سمندری جہاز یو ایس ایس کارل ولسن نے جنوبی بحیرہ چین (ساؤتھ چائنا سی) میں 'معمول کے آپریشنز' کا آغاز کیا ہے۔ اس جہاز کو جنگي جہازوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔

کچھ روز قبل ہی چین کی وزارت خارجہ نے خطے میں چین کی حاکمیت کو چیلنچ کرنے کے لیے امریکہ کو خبردار کیا تھا اور اس بیان کے چند دن بعد ہی اس امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی عمل میں آئی ہے۔

بدھ کے روز چینی وزارت خارجہ کے ترجمان سینک شوانگ نے کہا تھا: 'ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے چین کی خود مختاری اور سکیورٹی چینلج ہوتی ہو۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعوی ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں

آخری بار اس علاقے میں امریکی طیارہ بردار جہاز دو برس قبل ملائیشیا کے ساتھ ہونے والی بحریہ اور فضائیہ کی مشقوں کے دوران آیا تھا جبکہ مجوعی طور پر امریکی بحری جہازوں نے اس خطے میں اب تک 16 بار سفر کیا ہے۔

موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے بارے میں قدرے سخت موقف اپنایا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ ان جزائر، جو حقیقت میں بین الاقوامی پانیوں میں ہیں اور چین کا باقاعدہ حصہ نہیں ہیں، وہاں بین الاقوامی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور انھیں کسی دوسرے ملک کو لینے سے روکا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میتز نے حال ہی میں اپنے دورہ جاپان کے دوران کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فی الحال اس خطے میں کسی ڈرامائی فوجی اقدام کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعوی ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

چین گذشتہ کئی برسوں سے اس خطے میں مصنوعی جزیرہے تعمیر کر رہا ہے اور ان تک دوسروں کی رسائی بھی محدود کر دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں