عراق: دولتِ اسلامیہ سے مغربی موصل کا قبضہ چھڑوانے کے لیے کارروائی جاری

عراق
Image caption عراقی افواج نے موصل شہر کے مغربی حصے کو دولتِ اسلامیہ سے چھڑوانے کے لیے اتوار کو کارروائی کا آغاز کیا تھا

عراق کی حکومتی افواج کی جانب سے موصل کے مغربی حصے کو خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

واضح رہے کہ موصل عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ ہے۔

موصل میں حکومتی افواج کے ساتھ موجود بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹن سمرویل کا کہنا ہے کہ علاقے میں توپخانے سے گولہ باری کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

عراقی فوج نے مغربی موصل کو گھیرے میں لے لیا

موصل میں محصور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی اپیل

نامہ نگار کے مطابق دولتِ اسلامیہ کی جانب سے نصب کیے جانے والے دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے عراقی فوج کی کارروائی سست روی کا شکار ہے۔

عراقی افواج نے موصل شہر کے مغربی حصے کو دولتِ اسلامیہ سے چھڑوانے کے لیے اتوار کو کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

عراق کی افواج نے گذشتہ ماہ شدید لڑائی کے بعد موصل کے مشرقی حصے کو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروایا تھا۔

ادھر اقوام متحدہ نے موصل میں محصور 6,50,000 افراد کی زندگی کو لاحق خطرات پر اپنی تویش کا اظہار کیا ہے۔

عوام کو اس صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے طیاروں سے اس علاقے میں پرچے گرائے گئے۔

عراق کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ تنگ گلیوں کی وجہ سے موصل کے مشرقی حصے کی نسبت مغربی حصے کو دولتِ اسلامیہ سے چھڑوانا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دریائے دجلہ کے پار موصل کے مغربی حصے کے تمام پل تباہ ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں