امریکہ: اوبر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کی تفتیش کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کمپنی کو اس سے پہلے بھی اس طرح کے الزامات کاسامنا رہا ہے کہ اس کی خواتین ملازمین کے ساتھ اچھا رویا نہیں برتا جاتا

امریکہ میں ٹیکسی سروسز فراہم کرنے والی کمپنی اوبر کا کنا ہے کہ ملازمین کے ساتھ جنسی طور پر مبینہ ہراساں کرنے کے الزامات کی ہنگامی طور پر تفتیش کرے گی۔

اوبر میں کام کرنے والی ایک سابق انجینيئر سوزین فاؤلر نے ایک بلاگ میں لکھا تھا کہ جب وہ اوبر میں کام کرتی تھیں تو انھیں کئی بار جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اوبر کے سربراہ ٹریوز کیلنک نے کہا کہ سوزین فاؤلر نے جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ انتہائی افسوس ناک ہیں اور ان تمام اصولوں اور اقدار کے منافی ہیں جن پر کمپنی یقین اور عمل کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جو کوئی بھی اس طرح سوچتا ہے یا ایسا کام کرتا ہے اسے ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔‘

کمپنی کو اس سے پہلے بھی اس طرح کے الزامات کاسامنا رہا ہے کہ اس کی خاتون ملازمین کے ساتھ اچھا رویہ نہیں برتا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ uber
Image caption اوبر کے جانب سے ملازمین کے رنگ، نسل، اور جنس وغیرہ سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی جاتیں ہیں

سوزین فائلر کے مطابق نوکری کے ابتدائی دنوں میں ہی ان کے مینیجر نے ان سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ ہم بستر ہونا چاہتے ہیں۔ جب انھوں نے اس کی شکایت کی تو انھیں بتایا گیا کہ کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ مینیجر کی یہ ’پہلی غلطی‘ تھی۔

انھوں نے اس کے علاوہ بھی بہت سے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ کمپنی میں خاتون ملازمین کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔ اوبر کے جانب سے ملازمین کے رنگ، نسل، اور جنس وغیرہ سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی جاتیں ہیں۔

مسٹر کلینک کا کہنا ہے کہ یہ الزمات پہلی مرتبہ ان کے علم میں آئے ہیں اور اس کی فوری طور پر تفتیش کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اوبر میں اس طرح کے رویے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

لیکن انٹرنیٹ پر سوزین فاؤلر کا بلاگ پڑھ کر بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ سیلیکون ویلی میں بھی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ سوزین فاؤلر کے الزامات اوبر کے بارے میں تھے لیکن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی دیگر خواتین بھی اس طرح کے تجربات کا سامنا کرچکی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں