سویڈن سے متعلق بیان پر ٹرمپ سے وضاحت طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب میں یورپ میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی فہرست بیان کرتے ہوئے سویڈن کا ذکر بھی کیا تھا

سٹاک ہوم نے فلوریڈا ریلی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی وضاحت طلب کی ہے جس میں انھوں نے سویڈن میں ہونے والے کسی سکیورٹی واقعے کا ذکر کیا تھا۔

سویڈش حکام کا کہنا ہے کہ جمے کے روز ان کے ملک میں کسی قسم کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اسی لیے امریکی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیان کی وضاحت کریں کہ وہ کس واقعے کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ہفتے کو ریاست فلوریڈا میں اپنے حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب میں یورپ میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی فہرست بیان کرتے ہوئے سویڈن کا ذکر بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ ’دیکھئیے گذشتہ رات سویڈن میں کیا ہوا۔ ‘

صدر ٹرمپ نے بعد میں اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ تقریر کے دوران انھوں نے امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کی رپورٹ کا حوالہ دیا جوسویڈن میں پناہ گزینوں اور جرائم سے متعلق تھی۔ تاہم انھوں نے رپورٹ کے نشر ہونے کا وقت نہیں بتایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption سویڈن کے سابق وزیراعظم کارل بلڈٹ سمیت بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر مسٹر ٹرمپ کے اس بیان کا مذاق اڑایا ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے باوجود وائٹ ہاوس کی ترجمان سارہ ہکابی سانڈرس کا کہنا ہے کہ وہ عموعی طور پر جرائم میں اضافے کی جانب اشارہ کررہے تھے انھوں نے کسی خاص واقعے کا تذکرہ نہیں کیا۔

سویڈن کے سابق وزیراعظم کارل بلڈٹ سمیت بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر مسٹر ٹرمپ کے اس بیان کا مذاق اڑایا ہے۔ مسٹر کارل کا کہنا تھا کہ ’لگتا ہے کہ ٹرمپ (تقریر سے پہلے) سگریٹ نوشی کرتے رہے ہیںآ‘ ٹوئٹر پر ’لاسٹ نائٹ ان سویڈن‘ کا ٹرینڈ بھی کافی دیر چلتا رہا۔

ٹرمپ نے ریلی کے دوران کہا تھا کہ ’دیکھیئے جرمنی میں کیا ہورہا ہے؟ اور دیکھیئے رات سویڈن میں کیا ہوا؟ سویڈن کون یقین کرے گا یہ۔ انھوں نے (پناہ گزینوں) کو بڑی تعداد میں پناہ دی اور اب انھیں ایسے مسائل کا سامنا ہے جن کا انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔‘

سویڈن کی ایک نیوزویب سائٹ نے جمعے کو ملک میں ہونے واقعات کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ جس میں ایک شخص کے خود کو آگ لگا کر خودسوزی کرنے پولیس کی جانب سے ایک کار کے تعاقب خراب موسم کے باعث سڑکوں کی بندش اور ایک آدمی کے قتل جیسے واقعات شامل ہیں۔ تاہم پناہ گزینوں سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں