جنرل مک ماسٹر قومی سلامتی کے مشیر نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر کو قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

مک ماسٹر لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلن کی جگہ قومی سلامتی کے مشیرکا عہدہ سنبھالیں گے جن کو ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے 24 روز بعد ہی برخاست کردیا تھا۔

ٹرمپ میڈیا میں روس سے رابطوں کی خبروں پر برہم

امریکی ایڈمرل کا ٹرمپ کا مشیر بننے سے انکار

امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر عراق اور افغانستان میں حکومت کی انسداد بدعنوانی کی مہم کے سربراہ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر کی قومی سلامتی کے مشیر کے لیے پہلا انتخاب ریٹائرڈ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے 'ذاتی وجوہات' کے باعث پیشکش رد کردی تھی۔

فلوریڈا میں لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مک ماسٹر نہایت تجربہ کار اور قابل ہیں۔ ان کو امریکی فوج میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

مائیکل فلن نے اس وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری اور اپنی تعیناتی سے قبل امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی سفیر سے بات چیت کی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنرل فلن کی روسی سفیر کے ساتھ فون پر بات چیت کے معاملے کا کئی ہفتوں سے علم تھا۔

یہ معاملات اس وقت طول پکڑنے لگے جب نیویارک ٹائمز نے یہ خبر شائع کی کہ فون ریکارڈ اور انٹرسیپٹ کی جانے والی فون کالز سے پتہ چلا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے بعض ارکان اور صدر کے دوسرے ساتھیوں نے انتخاب سے ایک سال قبل روسی انٹیلیجنس کے سینیئر اہلکاروں سے بار بار رابطے کیے تھے۔

مائیکل فلن کے مستعفی ہونے کے بعد کیتھ کیلوگ قومی سلامتی کے قائم مقام مشیر بنے اور اب وہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے چیف آف سٹاف کا عہدہ سنبھالیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں