'دولت اسلامیہ کی شکست کے لیے بدعنوانی کا خاتمہ ضروری'

عراقی فوج تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی موصل کی جانب پیش رفت کرنے والی عراقی فوج

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کو شکست دینا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بدعنوانی کے اس ماحول کو ختم نہیں کیا جاتا جو اس شدت پسند تنظیم کو پھلنے پھولنے میں مدد دے رہا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی ممالک کی حکومتوں پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بدعنوانی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

٭ دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

٭ دو سال میں دولت اسلامیہ کے ’50 ہزار جنگجو ہلاک‘

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں ان ممالک سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوجی بجٹ میں جوابدہی کو سختی کے ساتھ لاگو کرنے کی کوشش کریں۔

رپورٹ کے مطابق بدعنوانی اور اس سے پیدا ہونے والے حالات لوگوں کو دہشت گردی کی جانب لے جاتے ہیں اور اس کے فروغ میں تعاون کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب عراقی افواج دولت اسلامیہ کے مضبوط گڑھ موصل کو واپس لینے کے لیے پیش قدمی کر رہی ہیں۔

'بگ سپن' نامی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دولت اسلامیہ نے بدعنوانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب اور بھرتی کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے اس ضمن میں اپنی بددیانتیوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے خود کو بدعنوانی سے نجات دلانے والے مسیحا کے طور پر پیش کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیبیا میں دولت اسلامیہ کی شکست کے بعد ایک شخص کو پرچم بلند کرتے دیکھا جا سکتا ہے

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی کی ڈائریکٹر کیتھرن ڈکسن نے کہا: دولت اسلامیہ کے لیے بدعنوانی لوگوں کو ایک ساتھ لانےاور کامیابی حاصل کرنے کا اہم طریقہ کار ہے۔

ان کے مطابق بین الاقوامی برادری نے دولت اسلامیہ جیسی تنظیموں کے 'نظریات' سے نمٹنے پر زیادہ زور صرف کیا ہے اور اپنی زیادہ تر توجہ ان مذہبی بیان بازیوں پر مرکوز کی ہے جو یہ پیش کرتے ہیں لیکن انھوں نے ان مادی حالات کو پوری طرح نظر انداز کر دیا جن میں یہ پھلتے پھولتے ہیں۔

حکومت میں بدعنوانی کے خلاف متحرک رہنے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں ان موضوعات کی نشاندہی کی ہے جنھیں دولت اسلامیہ جیسی تنظیمیں لوگوں کو بھرتی کرنے میں استعمال کرتی ہیں۔

اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ اقربا پروری اور رشوت خوری جیسی منظم بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتی ہے جبکہ خود کو سکیورٹی، انصاف اور فلاح و بہبود فراہم کرنے والوں کے طور پر پیش کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سنی مسلمانوں کے تعصبات کا شکار ہونے کے درد کو بھی پیش کرتی ہے اور اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ مغربی ممالک اور اتحادی ان بدعنوانیوں میں برابر کے شریک ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption رپورٹ کے مطابق بدعنوانی اور اس سے پیدا ہونے والے حالات لوگوں کو دہشت گردی کی جانب لے جاتے ہیں

اس کے علاوہ بدعنوانی نے حقیقی طور پر عراقی فوج جیسی بعض افواج کو کمزور کیا ہے۔ جب اس نے دولت اسلامیہ کے خلاف موصل میں حملہ کیا تو اس کے پاس لڑنے والے فوجی ناکافی تھے کیونکہ ہزاروں فوجیوں کو تنخواہ تو مل رہی تھی لیکن وہ واقعتا کام نہیں کر رہے تھے۔

ڈکسن نے متنبہ کیا کہ اعلی ترین سطح پر اس مسئلے کو حل کیے بغیر دولت اسلامیہ کو شکست نہیں ہو سکتی۔

ڈکسن نے جو اس رپورٹ کی شریک مصنفہ ہیں بطور خاص یہ بات کہی کہ 'ہم یہ نہیں کر سکتے کہ ہم مغربی ممالک کے ٹیکس ادا کرنے والوں کا پیسہ استحصال کرنے والی اور شکاری سرکاری افواج کو بنانے میں خرچ کریں۔'

ڈکسن نے مزید کہا: یہ صرف بدعنوان راستوں کو بند کرنا نہیں ہے جس سے دولت اسلامیہ جیسی تنظیموں کے روز مرہ کے آپریشنز چلتے ہیں بلکہ ہمیں مستقبل کے مبارکوں (مصر)، قذافیوں (لیبیا) اور مالکیوں (عراق) کے ساتھ اپنے رشتوں پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق بدعنوانی اعلی طبقے کی جیبوں کو بھرنے کے ذریعے سے کہیں زیادہ سکیورٹی کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں