شمالی کوریا سفارتکار تک رسائی دے: ملائیشیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم جونگ نام کی گذشتہ ہفتے کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر پراسرار حالات میں موت ہو گئی تھی۔

ملائیشیا نے کوالالمپور میں شمالی کوریا کے سفارتخانے کے ایک سینیئر اہلکار کو تلاش کرنے اور ان سے تفتیش کے لیے رسائی حاصل کرنے میں شمالی کوریا سے مدد مانگی ہے۔

یہ اہلکار شمالی کوریا کے رہنما کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کے قتل کے حوالے سے مطلوب ہیں۔

کم جونگ نام کی گذشتہ ہفتے کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر پراسرار حالات میں موت ہو گئی تھی۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انھیں اس وقت زہر دیا گيا جب وہ اپنی پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔

اس حملے میں دو خواتین نے ان کے چہرے پر زہریلہ مواد لگا دیا تھا۔ خواتین کا موقف ہے کہ وہ یہ چمجھ رہی تھیں کہ چہرے پر کچھ مواد لگانا ایک مذاق تھا۔

دریں اثنا ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں بظاہر کم جونگ نام پر ہونے والے حملے کو دکھایا گیا ہے اور اسے ایک جاپانی ٹی وی پر نشر کیا گيا ہے۔

اس واقعے کے نتیجے میں شروع ہونے والے تنازعے کی شدت میں اضافے کے بعد ملائیشیا نے پیونگ یانگ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

بدھ کو کوالالمپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے پولیس چیف خالد ابو باقر نے کہا کہ اعلان کردہ مشتبہ افراد کی فہرست کے علاوہ ملائشیا کے حکام کو تین مزید شمالی کوریائی افراد مطلوب ہیں۔

ان میں سے ایک ہیون کوانگ سونگ شمالی کوریا کے ملائیشیا میں سفارت خانے میں سیکنڈ سیکرٹری ہیں۔

خالد ابو باقر کا کہنا تھا کہ انھوں نے شمالی کوریا کے سفیر کو لکھا ہے کہ وہ پولیس کو ہیون کوانگ سونگ اور دیگر اہلکاروں سے پولیس کو سوالات کرنے کی اجازت دے دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افر شمالی کوریا کے سفیر نے تعاون نہیں کیا تو وہ پھر سفیر کو حکام کے پاس آنے پر مجبور کریں گے۔

یاد رہے کہ ملائیشیا کی پولیس اس سلسلے میں شمالی کوریا کے چار باشندوں 33 سالہ ری جی ہایون، 34 سالہ ہونگ سونگ ہاک، 55 سالہ جونگ گل اور 57 سالہ ری جائے نام کی تلاش میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملائیشیا کے پولیس چیف خالد ابو باقر نے ایک پریس کانفرنس میں شمالی کوریائی سفارتکار کی تفصیلات بھی جاری کیں۔

پولیس نے ری جونگ چول نامی شمالی کوریائی باشندے کو حراست میں بھی لیا ہے اور ان کے علاوہ دو خواتین کو بھی حراست میں لیا گيا ہے جن میں سے ایک کا تعلق انڈونیشیا سے جبکہ دوسری کا ویت نام سے بتایا جاتا ہے۔

اس ہلاکت کے پس پشت شمالی کوریا کے ہونے کے امکانات وسیع پیمانے پر ظاہر کیے جا رہے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی بھی واضح ثبوت نہیں ہیں اور نہ ہی پیونگ یانگ نے سرکاری طور پر اس بابت کوئی بیان جاری کیا ہے۔

جنوبی کوریا نے سرعام شمالی کوریا پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا اور پیر کو اس نے اسے شمالی کوریا کی بےخوف دہشت گردی کی شہادت قرار دیا ہے۔

ملائیشیا ان چند ممالک میں شامل ہے جس نے شمالی کوریا سے سفارتی رشتہ استوار رکھا تھا لیکن اس واقعے کے بعد تعلقات میں بھی کشیدگی آ گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے کے دوران ملائشیا نے بغیر پوسٹ مارٹم کے کم جونگ نام کی لاش کو شمالی کوریا کو دیے جانے کے مطالبے کو ٹھکرا دیا تھا۔

جس پر جمعے کو پیونگ یانگ کے سفیر کانگ چول نے کوالالمپور پر دشمن طاقتوں سے ساز باز کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ملائیشیا کچھ چھپانا چاہتا ہے۔

اس پر ملائیشیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے سخت جواب سامنے آئے جس میں ان الزامات کو بےبنیاد قرار دیا گيا اور یہ بھی کہا گيا کہ چونکہ کم کی موت ملائیشیا کی سرزمین پر ہوئی ہے اس لیے تحقیقات ان کی ذمہ داری ہے۔

اسی بارے میں