ترک حکومت نے خواتین فوجیوں کے سکارف پہننے پر عائد پابندی ہٹا دی

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی کی حکومت نے تین دہائی قبل خواتین فوجیوں کے سر پر سکارف پہننے پر لگائی جانے والی پابندی کو ختم کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی میں فوج وہ آخری ادارہ ہے جس میں سر پر سکارف لینے پر لگائی گئی پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب تک فوج کو ترکی کے سیکولر قانون کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔

ترکی میں 1980 کی دہائی میں عوامی اداروں میں خواتین کے سر پر سکارف اوڑھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم اب ترکی میں اسلام پسند صدر رجب طیب اردوغان یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ پابندی ماضی کی تنگ نظری کی وجہ سے تھی۔

یہ معاملہ ترکی میں طویل عرصے تک متنازع رہا ہے۔

سیکولر نظریات کے حامی سر پر سکارف لیے جانے کو مذہبی قدامت پرستی تصور کرتے ہیں اور صدر پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ اسلامی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر سکولوں کو مذہبی سکولوں میں تبدیل کر رہے ہیں اور یہ 'دین دار' نسل کو پروان چڑھانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

گذشتہ دہائی میں سر پر سکارف لینے پر عائد پابندی کو سکولوں، یونیورسٹیوں اور سول سروسز سے ہٹایا گیا تھا جبکہ گذشتہ برس پولیس میں موجود خواتین کو بھی سکارف لینے کی اجازت مل گئی۔

سنہ 2010 میں ترکی کی یونیورسٹیوں نے لڑکیوں کے سکارف لینے پر عائد کی جانے والی سرکاری پابندی ہٹا دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تین سال کے بعد خواتین کو ریاستی اداروں میں سکارف لینے کی اجازت دی گئی جن میں عدلیہ، فوج اور پولیس کے ادارے مستثنیٰ تھے۔ سنہ 2013 میں چار خواتین نے پارلیمان میں سر پر سکارف لیا۔

سنہ 2016 میں پولیس کے محکمے میں کام کرنے والی خواتین کے سر پر سکارف لینے پر عائد پابندی کو بھی ختم کر دیا گیا۔

ترک روزنامہ حریت کے مطابق نئے قواعد فوجی افسران، سپاہی اور کیڈٹس کے لیے ہیں۔ انھیں سر پر اپنی ٹوپیوں کے اندر اپنے یونیفارم کا ہم رنگ سکارف لینے کی اجازت ہو گی۔

یاد رہے کہ ترکی کا قانون سیکولر ہے یعنی سنہ 1920 سے اب تک سرکاری طور پر ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ ترکی کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں