’غیر ملکی شریک حیات، برطانیہ لانے کے قواعد برقرار‘

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ آمدن سے متعلق وہ قوانین جنھوں نے ہزاروں برطانوی شہریوں کو اپنے غیر ملکی شریک حیات کو یہاں آنے سے روک دیا تھا 'اصولی طور پر' قانونی ہیں۔

تاہم عدالتِ عظمیٰ کے ججوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریگریشن سے متعلق فیصلوں میں بچوں کی بہبود کو ہر صورت میں فروغ دیا جانا چاہیے۔

سنہ 2012 سے یہ قانون ہے کہ کوئی برطانوی شہری یورپی اکنامک ایریا کے باہر سے بیوی یا شوہر یہاں لاتا ہے تو اسے برطانیہ میں مستقل سکونت اسی صورت میں مل سکتی ہے اگر بلانے والے کی آمدن 18,600 پاؤنڈ سے زیادہ ہو۔

ججوں نے ان خاندانوں کی اپیل مسترد کردی جن کا کہنا تھا کہ ان قوانین سے ان کے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی گزارنے کے انسانی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کرنے والے سات جج صاحبان نے کہا کہ کم از کم آمدن کا قانون ’اصولی طور پر قابلِ قبول ہے‘۔ لیکن انھوں نے اس قانون سے متعلق دیگر قواعد پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ بچوں سے متعلق فیصلوں کے وقت یہ قواعد ان کی فلاح و بہبود میں ناکام ہوئے ہیں۔

ججوں نے فیصلے میں کہا کہ کسی مقدمے میں تنخواہ یا فوائد کے علاوہ کسی مقدمے میں فنڈنگ کے متبادل ذرائع پر غور کے لیے قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے۔

یہ قوانین گذشتہ مخلوط حکومت کے دور میں غیر ملکی شوہر یا بیوی کو برطانوی ٹیکس گزاروں پر انحصار سے روکنے کے لیے متعارف کرائے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPENCER RUSS

ایک بچہ ہونے کی صورت میں کسی ایسے جوڑے کے لیے جس کے پاس برطانوی شہریت نہ ہو تو کم از کم آمدن کی حد جو برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے والوں کو بھی متاثر کرتی ہے، بڑھ کر 22,000 پاؤنڈ ہو جاتی ہے۔ دوسرا بچہ بھی ہو تو اس میں 2,400 پاؤنڈ کا مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

موجود قوانین بیرونِ ملک میں شوہر یا بیوی کی کمائی کو مدِ نظر نہیں رکھتے خواہ ان کی تعلیمی قابلیت زیادہ ہی کیوں نہ ہو یا انھیں برطانوی شوہر یا بیوی کی نسبت بہتر ملازمت ہی کیوں نہ مل سکتی ہو۔

کم از کم آمدن کی حد کا اطلاق یورپی اکنامک ایریا میں رہنے والوں پر نہیں ہوتا۔

سپینسر راس امریکی ہیں لیکن اپنی برطانوی بیوی لورا سیگن کے ساتھ برطانیہ میں رہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے ’اتفاق سے اگر اسے مجھ سے محبت ہو گئی ہے اور میرے پاس غلط پاسپورٹ (امریکی پاسپورٹ) ہے تو میری بیوی کو (ان قوانین کی وجہ سے) اپنے ہی ملک میں میرے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں۔‘