لندن پولیس کی 188 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لندن پولیس فورس کی 188 سالہ تاریخ میں پہلی بار خاتون میٹروپولیٹن پولیس کمشنر کی تعیناتی کی گئی ہے۔

کریسیڈا ڈک کو سر برنارڈ ہوگن کی ریٹائرمنٹ کے بعد لندن میٹروپولیٹن پولیس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل کریسیڈا انسداد دہشت گردی کی سربراہی کر رہی تھیں۔ اپنی تقرری پر انھوں نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں۔

تاہم ان کی تقرری پر چارلز ڈی مینیز کے خاندان والوں نے تنقید کی ہے۔ 2005 میں کریسیڈا کی سربراہی میں کیے جانے والے ایک آپریشن میں چارلز کو غلطی سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

برازیل سے تعلق رکھنے والے چارلز کو 2005 میں لندن دھماکوں کے دو ہفتے بعد اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب ان کو مشتبہ دہشت گرد تصور کیا گیا۔

56 سالہ کریسیڈا نے 31 سالہ سروس کے بعد دسمبر 2014 میں لندن پولیس چھوڑ کر وزارت خارجہ میں شمولیت اختیار کی۔

کریسیڈا کے مقابلے میں نیشنل پولیس چیفس کونسل کی سربراہ سارا تھورنٹن، ایسکس پولیس چیف سٹیفن اور سکاٹ لینڈ یارڈ کے مارک راؤلی تھے۔

ان کی تقرری کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ برطانیہ میں پولیس کے تینوں اہم منصب خواتین کے پاس ہیں جن میں میٹروپولیٹن کمشنر، نیشنل کرائم ایجنسی کی سربراہی اور نیشنل پولیس چیفس کونسلکی صدارت شامل ہیں۔

کریسیڈا کی نئی تقرری میں ان کی تنخواہ دو لاکھ 70 ہزار 648 پاؤنڈ سالانہ ہو گی۔

انھوں نے پولیس 1983 میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل انھوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی سے گریجوئیشن کی۔

2009 میں وہ لندن میٹروپولیٹن پولیس کی پہلی اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئیں۔

2014 میں انھوں نے سکاٹ لینڈ یارڈ چھوڑ کر وزارت خارجہ میں نہایت حساس پوسٹ پر کام شروع کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں