مالی فائدے کے لیے 26 فرضی بچوں کا اندراج

روری مک وہرٹر تصویر کے کاپی رائٹ Alan Richardson

سکاٹ لینڈ میں ایک عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایک کاروباری شخص نے ملک کے فلاحی فنڈ کے لیے 26 ایسے بچوں کا اندراج کروایا جو کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔

روری مک وہرٹر نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے لوگوں کوگلاسگو کے ایک ہوٹل میں جعلی ملازمتوں کے لیے درخواست دینے دھوکے سے ان کی شناختی تفصیلات حاصل کیں۔

انھوں نے ایسے بچے جو کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے کا جعلی اندراج کروانے سے پہلے لوگوں کی ان تفصیلات کو ان کی شادی کے سرٹیفیکیٹس حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

29 سالہ مک وہرٹر نے مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ان برتھ سرٹیفیکیٹس کو استعمال کیا۔

مک وہرٹر نے ٹیکس کریڈیٹس میں 14,222 پاؤنڈز، بچوں کے فوائد کے لیے 19,658 پاؤنڈز اور شوئر سٹارٹ میٹرنٹی گرانٹ کے لیے 500 پاؤنڈ کا دعوی کیا۔

ایڈنبرگ سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ مک وہرٹر کو 21 مارچ کو سزا سنائی جائے گی۔

ڈونڈی شیرف کورٹ کو بتایا گیا کہ مک وہرٹرکو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ابردین کے رجسٹری آفس میں بچوں کا جعلی اندراج کروانے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ انھیں سٹاف نے پہچان لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مک وہرٹر نے ٹیکس کریڈیٹس میں 14,222 پاؤنڈز، بچوں کے فوائد کے لیے 19,658 پاؤنڈز اور شوئر سٹارٹ میٹرنٹی گرانٹ کے لیے 500 پاؤنڈ کا دعوی کیا

ٹھیک اسی وقت ایچ ایم آر سی کے کمپیوٹر سسٹم پر ’منظم حملہ‘ ہوا جس سے معلوم ہوا کہ ڈونڈی اور کیمبل ٹاؤن کے ایک ایڈریس سے ٹیکس کریڈٹ کے لیے 350 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان کا تعلق مک وہرٹر سے تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مک وہرٹر نے سکاٹ لینڈ کے مختلف دفاتر کے رجسٹراروں کو خط پیش کیے جس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ ڈاکڑوں نے بچوں کی پیدائش گھر میں ہونے کی تصدیق کی ہے۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مک وہرٹر نے بچوں کی پیدائش کا اندراج کرواتے وقت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ سادی کے سرٹیفیکیٹ پر ان کا نام مرد کے طور پر درج ہے۔

مک وہرٹر نے تسلیم کیا کہ انھوں نے یکم جون سنہ 2014 سے 22 اکتبوبر سنہ 2015 کے دوران یہ فراڈ کیا۔

ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو اس بات پر کوئی شک نہیں کہ انھیں قید کی سزا ہوگی۔

اسی بارے میں