سائبر جنگ کا اعتراف، ’روس کے انفارمیشن فوجی ذہین اور موثر پروپیگنڈہ میں ملوث ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ MIL.RU

روسی فوج نے پہلی بار معلومات کی جنگ کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ سرد جنگ کے بعد سے اس کا دائرہ کافی وسیع کیا گیا ہے۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئگو کا کہنا ہے کہ روس کے 'انفارمیشن فوجی' ذہین اور موثر پروپیگنڈہ میں ملوث ہیں۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے ٹیم یا ہدف کی تفصیلات نہیں دیں۔

’روس غیر مصدقہ معلومات کو ہتھیار بنا رہا ہے‘

ٹرمپ میڈیا میں روس سے رابطوں کی خبروں پر برہم

’ٹرمپ کے بارے میں خفیہ معلومات کی خبریں بکواس ہیں‘

یاد رہے کہ مغربی ممالک کئی بار روس پر سائبر حملوں کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ اور اطلاعات کے مطابق ایسے حملوں کا اولین ہدف نیٹو ہے۔

سرد جنگ کے دوران سووی یونین اور امریکہ دونوں ہی نے پروپیگنڈہ کیا تاکہ اپنے موقف سے عالمی عوامی رائے عامہ اور پر اثر انداز ہوں سکیں اور اپنے نظریات کو بڑھا سکیں۔

روسی ممبران اسمبلی سے بات کرتے ہوئے روسی وزیر دفاع نے کہا 'ہمارے پاس انفارمیشن فوجی ہیں جو سابق 'کاؤنٹر پروپیگنڈہ' سیکشن سے کہیں زیادہ موثر اور مضبوط ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس میں روسی فوج کے ماہر کیر گائلز نے متنبہ کیا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے 'سائیبر جنگجوؤں' اور ہیکرز کے حوالے سے موجودہ توجہ کے مقابلے میں روسی 'انفارمیشن کی جنگ' کہیں زیادہ وسیع ہے۔

گائلز نے نیٹو کے لیے مرتب کی جانے والی رپورٹ 'The Next Phase of Russian Information Warfare' میں کہا ہے کہ 'روس کا مقصد ہے کہ انفارمیشن کسی بھی صورت میں ہو اکٹھی کی جائے۔ سوویت یونین کے وقت کے میں ماسکو کا اصل مقصد روس برائے خیال کو بڑھانا تھا یا پھر روسی ماڈل کو اپنانے کے لیے پروپیگنڈہ کرنا تھا۔ لیکن اب اس کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ سچ اور صحیح رپورٹنگ کو ممکن بنانے سے روکا جائے۔'

گائلز نے بی بی سی کو بتایا کہ روس نیٹو کا امتحان مختلف طریقوں سے لے رہا ہے جس میں انفرادی فوجیوں کے سوشل میڈیا پروفائلز کو ٹارگٹ کرنا شامل ہے۔

'وہ انفرادی سطح پر لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور ان کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ روس نے بالٹک ریاستوں میں نیٹو فوجیوں کو ٹارگٹ کیا، پولینڈ کی ملٹری اور یوکرین کی فوج کو ٹارگٹ کیا جو روسی حمایت یافتہ فوجیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ '

'خون بہائے بغیر دشمن کو مفلوج کرنا'

تصویر کے کاپی رائٹ AP

روس مغرب کی جانب سے غلط انفارمیشن پھیلانے کے بیانیے کو رد کرتا ہے اور نیٹو پر الزام لگاتا ہے کہ وہ جارحانہ طریقے سے اپنے مشن میں توسیع کر رہا ہے۔

روس کی سائیبر سپیس میں کارروائیوں پر مغرب نے سخت نظر رکھی ہوئی ہے۔

گائلز کے مطابق 'روس نے انفارمیشن کی جنگ کو ترجیح دینے کا فیصلہ 2008 میں روس اور جارجیا کے تصادم کے بعد کیا۔ روس کی سکیورٹی ایجنسیوں کو معلوم چلا کہ وہ جنگ میں صحیح اور غلط ہونے کے حوالے سے عوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے میں ناکام رہے ہیں۔'

روسی وزیر دفاع کے بیان پر روس کے سابق کمانڈر ان چیف جنرل یوری بلوسکی نے کہا کہ انفارمیشن کی جنگ میں جیت فوجی تصادم میں جیت سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ انفارمیشن کی جنگ میں جیت خون بہائے بغیر حاصل کی جاتی ہے لیکن یہ نہایت پر اثر ہے اور دشمن ریاست کے طاقتی ڈھانچے کو مفلوج کر دیتی ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کی ایسٹ سٹریٹکوم ٹاسک فورس نامی ایک خاص ٹیم ہے جو سوشل میڈیا پر روسی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں