ترک سفارتکاروں کی جرمنی میں پناہ کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ ماہ ایک یونانی عدالت نے ترکی کی جانب سے دیگر آٹھ فوجیوں کو ملک بدر کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ ترکی میں گذشتہ سال جولائی میں ہونے والی حکومت مخالف بغاوت کی کوشش کے بعد سے انھیں اب تک سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے 136 افراد کی سیاسی پناہ کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

جرمن میڈیا کا کہنا ہے یہ تعداد اگست 2016 سے جنوری 2017 تک کی درخواستوں کی ہے۔

ترکی نے جرمنی سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی اہلکار کو سیاسی پناہ نہ دیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ درخواست گزاروں میں ایسے بھی فوجی اہلکار شامل ہیں جو کہ جرمنی میں نیٹب کے فوجی اڈوں پر تعینات کیے گئے تھے۔

ادھر دو ترک فوجیوں نے یونان میں بھی سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں فوجی صدر طیب رجب اردوغان کی حکومت گرانے کی کوشش میں ملوث تھے۔

گذشتہ ہفتے ترکی اور یونان کی سرحد کے قریب ایک چھوٹے قصبے میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد سے دونوں کمانڈو یونانی پولیس کی حراست میں ہیں۔

گذشتہ ماہ ایک یونانی عدالت نے ترکی کی جانب سے دیگر آٹھ فوجیوں کو ملک بدر کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ترکی اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہا ہے۔

جرمنی کی وزارتِ داخلہ نے ان 136 افراد کی نشاندہی نہیں کی ہے جنھوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دیں ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ان میں سے کسی کو پناہ دی گئی ہے یا نہیں۔

ترکی میں صدر طیب اردغان کی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد سے کم از کم تین ہزار فوجیوں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ خیال رہے کہ ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعد 18000 ہزار گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاچکی ہیں۔

پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے142 میڈیا اداروں کو بند کیا جا چکا ہےاور متعدد صحافی بھی زیرِ حراست ہیں۔

ترک صدر بغاوت کی ناکام کوشش کا الزام امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن پر لگاتے ہیں تا ہم فتح اللہ گولن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں