افغانستان اور پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کتنی طاقتور ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Supplied
Image caption 2015 کے پہلے نصف میں دولتِ اسلامیہ مشرقی صوبے ننگھرہار میں بڑے خطے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب رہی

افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے حملوں میں تیزی کے پیشِ نظر ہمارے نامہ نگار داؤد عظمی نے اس بات کا جائزہ لیا کہ اس تنظیم سے افغانستان اور خطے کو کس قدر خطرہ ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے کتنا علاقہ فتح کر لیا ہے؟

دولتِ اسلامیہ نے اپنی خراساں (افغانستان اور قریبی علاقوں کا پرانا نام) شاخ کا اعلان جنوری 2015 میں کیا تھا۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب دولتِ اسلامیہ مشرقِ وسطیٰ سے باہر باضابطہ طور پر نمودار ہوئی۔

چند ہی ہفتوں میں گروہ کی موجودگی افغانستان کے پانچ صوبوں ہلمند، ذبول، فرح، لاگر، اور ننگھرہار میں دیکھی گئی۔ ان علاقوں میں تنظیم کی کوشش تھی کہ چھوٹے چھوٹے علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرے تاکہ وہاں سے کارروائیاں کی جا سکیں۔

یہ پہلا اہم شدت پسند گروہ تھا جس نے مقامی سورش میں افغان طالبان کے غلبے کو براہِ راست چیلنج کیا۔ تنظیم کا پہلا ہدف افغان طالبان کے جنگجوؤں کو ان کے علاقوں سے نکالنا تھا اور انھیں امید تھی کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں طالبان کی اتحادی القاعدہ کو بھی نکال دیں یا اس کے جنگجوؤں کو اپنے ساتھ شامل کر لیں۔

تاہم جنگ سے تنگ آئے جنگجوؤں میں تازہ جان ڈالنے کی کوششوں کے باوجود دولتِ اسلامیہ وسیع تر سیاسی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور افغانستان میں وہ مقامی حمایت حاصل نہیں کر سکی جس کی اسے توقع تھی۔

2015 کے پہلے نصف میں دولتِ اسلامیہ مشرقی صوبے ننگھرہار میں بڑے خطے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب رہی۔ یہ علاقہ تنظیم کا غیر اعلانیہ دارالحکومت بھی بن گیا جس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ دولتِ اسلامیہ خراساں کی اہم قیادت کے ٹھکانوں یعنی پاکستان کے قبائلی علاقوں کے قریب تھا اور دوسرا یہاں دولتِ اسلامیہ کے مسلک سلفی/وہابی اسلام کے پیروکاروں کی تعداد قدرے بہتر تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں گذشتہ 40 سال سے جنگ جاری ہے تاہم ملک میں فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ہوئی جو کہ خطے کے دیگر ممالک میں رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ شمالی افغانستان میں بھی اہنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں اس کا ہدف وسطی ایشیا میں چیچن اور چینی اوغر جنگجوؤں سے روابط قائم کرنا ہے۔

مگر افغان طالبان کی کارروائیوں اور نیٹو فوج کی کوششوں کی وجہ سے جنوبی اور مغربی افغانستان سے تنظیم کا صفایا ہوگیا ہے۔

گذشتہ چند ماہ میں مشرقی افغانستان میں بھی اس کے ساتھ سے کچھ علاقہ نکل گیا ہے۔ مگر ننگھرہار اور کنڑ کے کچھ علاقوں پر اب بھی اس کا کنٹرول ہے جہاں سے یہ حملوں کی منصوبہ بندی اور جنگجوؤں کو تربیت فراہم کرتا ہے۔

ذبول اور غزنی کے علاقوں اور کچھ شمالی صوبوں میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے پاس کتنے جنگجؤ ہیں؟

امریکی فضائی کارروائی اور افغان فوج کی زمینی جنگ کے پیشِ نظر افغانستان میں ابھرنے کے بعد سے دولتِ اسلامیہ نے سینکڑوں جنگجو گنوائے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں دولتِ اسلامیہ کے کئی سو جنگجو مارے گئے ہیں۔

پاکستانی طالبان کے سابق کمانڈر اور تنظیم کے بانی رہنما حافظ سعید خان اور ان کے نائب سمیت تقریباً ایک درجن کے قریب رہنما افغانستان میں ہلاک کیے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی اہلکاروں کا اصرار ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے 80 فیصد جنگجؤ پاکستانی ہیں۔

افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد کے بارے میں تخمینے 1000 سے 5000 تک ہیں۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ امریکی جنرل جان نکلسن کا اندازہ ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے افغانستان 1000 سے 1500 جنگجو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ملٹری آپریشنز کے بعد لگائے گئے اندازے کے مطابق یہ تعداد 3000 تھی جسے اب نصف کر دیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ان جنگجوؤں میں سے 70 فیصد ایسے ہیں جو کہ 2014 میں پاکستانی فوج کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے شروع ہونے کے بعد پاکستانی طالبان کو چھوڑ کر آئے ہیں۔

مگر افغان سکیورٹی اہلکاروں کا اصرار ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے 80 فیصد جنگجو پاکستانی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ باقی جنگجؤوں کا تعلق وسطی ایشیائی ممالک پر توجہ مرکوز رکھنے والی تنظیم اسلامک موومنٹ آف ازبکستان سے تھا یا پھر افغان طالبان سے تھا۔

دولتِ اسلامیہ اب تک تو اس لڑائی میں ختم نہیں ہوئی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنظیم ہلاک ہونے والوں کی جگہ لینے کے لیے نئے جنگجوؤں کو مائل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

اس کے حربے کیا ہیں؟

مختلف علاقوں کا کنٹرول کھونے کے بعد سے دولتِ اسلامیہ خراساں اپنے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھیوں والے حربے استعمال کرنے لگ گئی ہے جن میں خودکش حملے، ٹارگٹڈ کلنگ، اور خود ساختہ بموں کا استعمال شامل ہے۔

اس نے افغانستان میں کچھ بدترین حملے بھی کیے ہیں جن میں سے متعدد کابل میں کیے گئے تھے۔

جولائی 2016 میں کابل میں ایک ریلی پر خوکش حملے میں تقریباً 80 افراد ہلاک ہوئے۔ تین ماہ بعد عاشورہ کے موقعے پر اس جیسے دو حملوں میں 30 افراد ہلاک ہوئے۔ نومبر 2016 میں کابل میں ایک مسجد پر حملے میں 30 سے زیاوہ لوگ ہلاک ہوئے۔ ان تمام حملوں میں شیعہ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔

دولتِ اسلامیہ نے ملک کے دیگر حصوں میں حملوں کی ذمہ داری لی ہے جن میں تنظیم کے نظریات کے مخالف قبائلی بزرگ اور دینی سکالر ہلاک ہوئے ہیں۔

اس خطے کی خونی تاریخ کے معیار سے بھی دولتِ اسلامیہ نے یہاں تشدد میں شدید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ القاعدہ نے پاکستان اور افغانستان میں خودکش بم حملوں کو متعارف کروایا تھا، دولتِ اسلامیہ اب یہاں نئے اور زیادہ ظالمانہ حربے لے کر آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد کے بارے میں تخمینے 1000 سے 5000 تک ہیں

اس کی ایک مثال اگست 2015 میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو ہے۔ اس میں اچین ضلع کی برادری کے دس بزرگ رہنمائوں کو دیکھا جا سکتا ہے جن کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں دھماکہ خیز مواد سے بھرے گڑھوں میں بیٹھا گیا۔ بعد میں ان کو سب کو وہیں دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔

خواتین اور بچوں کے سرقلم اور اغوا کرنا بھی ان حربوں میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کا پروپیگینڈا انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع پر بھی بہت اہم ہے۔ تنظیم کے متعدد ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹ ہیں اور دسمبر 2015 سے وہ ننگھرہار سے ایف ایم ریڈیو سٹیشن بھی چلا رہے ہیں۔

ریڈیو خلافت ننگھرہار اور کنڑ صوبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سنا جا سکتا ہے۔ ایک مرتبہ امریکی حملے میں یہ سٹیشن تباہ کیا گیا تاہم چند ہی ہفتوں میں اس نے دوبارہ نشریات شروع کر دیں۔

دولتِ اسلامیہ شیعہ برادری کو کیوں نشانہ بناتی ہے؟

دولتِ اسلامیہ نے پاکستان میں بھی حملے کیے ہیں جہاں یہ زیادہ تر شیعہ مخالف گروہوں پر انحصار کرتی ہے۔ پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کا پہلا اہم حملہ مئی 2015 میں کراچی میں ایک بس پر ہوا تھا جس میں 40 شیعہ افراد مارے گئے تھے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں فروری 16 کو لعل شہباز قلندر کے مزار پر دولتِ اسلامیہ نے حملہ کیا جس میں 90 افراد مارے گئے۔

افغانستان میں گذشتہ 40 سال سے جنگ جاری ہے تاہم ملک میں فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ہوئی جو کہ خطے کے دیگر ممالک میں رہی ہے۔

تاہم دولتِ اسلامیہ کا ہدف ہے کہ افغانستان میں فرقہ وارانہ لڑائی شروع ہو جائے جیسا کہ اس نے عراق اور شام میں کیا ہے۔ دولتِ اسلامیہ شیعہ برادری کو کافر تصور کرتی ہے۔

اگرچہ دولتِ اسلامیہ نے اپنے سنی مخالفین کو بھی کئی بار نشانہ بنایا ہے تاہم اس کا واضح لائحہِ عمل شیعہ برداری کو نشانہ بنانا ہے۔

جولائی میں کابل میں شیعہ ریلی پر حملے کی صفائی پیش کرتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کا کہنا تھا یہ حملہ افغان شیعہ ہزارہ برداری کی کارروائی کا انتقام ہے جس میں ان کے متعدد اراکین ایران کے ذریعے شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں لڑنے کے لیے گئے تھے۔

اسی بارے میں