شام: کار بم دھماکے میں کم از کم 41 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک حمایت یافتہ باغیوں نے جمعرات کو اس قصبے کا کنٹرول حاصل کیا تھا

شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبے الباب میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کی وجہ سے باغیوں کی ایک سکیورٹی پوسٹ تباہ ہو گئی۔

یہ گاؤں شمال مغربی قصبے الباب سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور جہاں سے ترک حمایت یافتہ باغیوں نے جمعرات کو دولتِ اسلامیہ کو پیچھحے دکھیلا تھا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ باغی قبصے پر مکمل کنٹرول کے قریب ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس حملے میں 35 عام شہری اور چھ باغی ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا حملے کا نشانے باغیوں کی یہی چیک پوسٹ تھی۔

شامی حزب اختلاف کے خبر ایجنسی کا کہنا تھا شہری یہاں الباب واپسی کی اجازت طلب کرنے کے لیے کھڑے تھے کہ دھماکہ ہو گیا۔

حلب کے شمال مشرق میں واقع الباب کی آبادی ایک لاکھ نفوش پر مشتمل ہے اور اس کے گرد و نواح میں 50 ہزار لوگ رہتے ہیں۔

یہ قصبہ 2012 میں شامی باغیوں کے کنٹرول میں آیا جس کے بعد 2014 کے اوائل میں یہ دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں چلا گیا تھا اور یہ کئی غیر ملکی جہادیوں اور ان کے خاندانوں کا گھڑ بن گیا۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ اس قصبے میں بڑی پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں جنہیں صاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں