’کم جونگ نام کو قتل کرنے کے 90 ڈالر ملے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملائیشیا میں انڈونیشیا کے سفارت خانے کے حکام نے سیتی ایسیاہ نامی خاتون سے ملاقات کی ہے

شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کے قتل کے سلسلے میں گرفتار انڈونیشیا کی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ انھیں یہ ’شرارت‘ کرنے کے لیے صرف 90 ڈالر کی رقم دی گئی۔

ملائیشیا میں انڈونیشیا کے سفارت خانے کے حکام نے سیتی ایسیاہ نامی خاتون سے ملاقات کی ہے۔

اس خاتون کا کہنا ہے کہ انھیں ایک مزاحیہ ریئلٹی شو میں حصہ لینے کے لیے 90 ڈالر کم جونگ نام کے چہرے پر 'بے بی آئل' ملنے کے لیے دیے گئے تھے۔

تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کو اعصاب شکن زہریلے مادے 'وی ایکس' سے ہلاک کیا گیا ہے۔

اس مادے کو اقوامِ متحدہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے زمرے میں شمار کرتی ہے۔

انڈونیشیا کے حکام نے مذکورہ خاتون سے 30 منٹ تک ملاقات کی۔ اس کے بعد نائب سفارت کار اینڈرینو ارون نے بتایا ’انھوں نے بس اتنا بتایا کہ کسی شخص نے ان سے یہ کام کرنے کے لیے کہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی تھی جو کوریائی یا جاپانی نژاد معلوم ہوتے تھے۔‘

ارون نے مزید کہا 'اس شخص نے اس کام کے لیے انھیں چار سو ملائیشیائی نوٹ (یعنی تقریباً 90 امریکی ڈالر) دیے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں تو بس ایک تیل، بے بی آئل، جیسا مادہ دیا گيا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم جونگ نام کو اعصاب شکن زہریلے مادے 'وی ایکس' سے ہلاک کیا گیا

حکام نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ خاتون میں کوئی ایسا جسمانی نشان نظر نہیں آیا جس سے یہ پتہ چل سکتا کہ وہ بھی اس زہریلے مادے سے کسی طرح متاثر ہوئی ہیں۔'

وی ایکس ایک غیر معمولی تباہ کن کیمیائی ہتھیار ہے اور اس کا ایک قطرہ بھی انسانی جلد پر گرنے سے انسان مر سکتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد کے راستے انسانی جسم میں داخل ہو کر نظامِ اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے۔

وی ایکس تیل کی طرح کا مادہ ہے اور عام طور پر پانی میں اچھی طرح حل نہیں ہوتا جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے حملہ آوروں نے خود کو بچاتے ہوئے کیسے کم جونگ نام کے جسم پر لگایا۔

یہ پہلا موقعہ ہے کہ وی ایکس کو اس طریقے سے استعمال کیا گیا ہو۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کے بیانات حملے کے منظر کو واضح طور پر بیان نہیں کرتے۔ دو خواتین ان پر حملہ کرتی دکھائی دیتی ہیں اور ان میں سے کم از کم ایک کپڑے سے کم کا چہرہ بھی پونچھتی ہے۔

ملائیشیا کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ دو خواتین نے اپنے ہاتھوں پر زہریلا مادہ ملا اور پھر ان ہاتھوں سے کم کا چہرہ پونچھ دیا لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ دونوں بھی اسی وقت مر چکی ہوتیں۔

اس لیے اگر کم پر کوئی مائع چھڑکا گیا یا ان کے منہ پر ملا گیا تو امکان یہی ہے کہ کم از کم اس میں وی ایکس نہیں تھا۔ اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ جن خواتین نے کم پر حملہ کیا وہ ہاتھوں پر وہ مائع لگنے کے باوجود ہلاک نہیں ہوئیں۔

لیکن یہ کام کسی بھی طرح آسان نہیں تھا۔ مجرموں نے اس کی مشق کی ہو گی کہ قطرہ کم کو چھوئے لیکن وہ خود اس سے محفوظ رہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ مجرموں نے 13 فروری سے پہلے شاپنگ مالز میں اس کام کی مشق کی ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں