ٹرمپ صحافیوں کے ڈنر میں شامل نہیں ہوں گے

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ اپنی انتظامیہ یا پالیسیوں پرنکتہ چینی کرنے والی خبروں کو جعلی خبریں بتاتے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس برس 29 اپریل کو میڈیا اور مشہور شخصیات کے لیے وائٹ ہاؤس میں منعقد کیے جانے والے خصوصی عشائیے میں شامل نہیں ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ سالانہ تقریب اپنی رونق کے لیے مشہور ہے جس میں مشہور شخصیات، نامور صحافی اور سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عموماً امریکی صدر بھی شریک ہوتے ہیں۔

ایک روز قبل ہی وائٹ ہا‎ؤس نے امریکہ سمیت دینا کے کئی بڑے نشریاتی اداروں اور اخبارات کو معمول کی بریفنگ سے خارج کر دیا تھا اور صدر ٹرمپ نے اس کے دوسرے روز ہی صحافیوں کے لیے معروف اس ڈنر پارٹی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے اس سے متعلق اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: 'میں اس برس وائٹ ہاؤس کے کورسپانڈنٹ ایسوسی ایشن ڈنر میں شامل نہیں ہوں گا۔ برائے کرم ایک دوسرے کو مبارک باد دپیش کریں اور ایک بہترین شام گزاریں۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر میڈیا پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور یہ اعلان اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس اور میڈیا کے درمیان تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ اپنی انتظامیہ یا پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے والی خبروں کو جعلی خبریں کہتے ہیں اور چند روز قبل کہا تھا کہ'جعلی خبریں' عوام کی 'دشمن' ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وائٹ ہا‎ؤس نے امریکہ سمیت دینا کے کئی بڑے نشریاتی اداروں اور اخبارات کو معمول کی بریفنگ سے خارج کر دیا

وہ پہلے ہی سی این این اور نیو یارک ٹائمز جیسے بڑے میڈیا اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس میں کورسپانڈنٹ ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے صدر کے اعلان کا نوٹس لیا ہے لیکن ڈنر پہلے کی طرح اب بھی پہلی ترمیم، یعنی اظہار رائے کی آزادی، اور صحت مند جمہوریت میں میڈیا کے اہم کردار کو سراہنے کے لیے بطور جشن منایا جائے گا۔

بلومبرگ نیوز اور نیو یارک میگزین جیسے میڈیا اداروں نے اس ڈنر میں پہلے ہی نہ شریک ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور اب بہت سے دیگر صحافی بھی اس کے بائیکاٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق 1924 سے لے کر آج تک امریکہ کے تقریباً سبھی صدور نے اس خاص ڈنر میں کم سے کم ایک بار ضرور شرکت کی ہے۔

عام طور پر صدر پہلے اس تقریب کے شرکا سے ذرا ہلکے انداز میں خطاب کرتا ہے۔ سابق صدر بارک اوباما نے تو آٹھ برس میں آٹھ بار اس میں شرکت کی تھی۔ خود ٹرمپ بطور سیاست دان اس میں شریک ہو چکے ہیں۔

2011 میں صدر اوباما نے بطور مذاق کہا تھا کہ اگر ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے تو وہ وائٹ ہاؤس کو ایک کیسینو میں تبدیل کر دیں گے۔ انھوں نے اس سے متعلق بعض افواہوں کا سہارا لے کر مذاق بھی کیا تھا۔

اس کے رد عمل میں ٹرمپ نے یہ کہا تھا کہ اوباما امریکہ میں نہیں پیدا ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں