چلی میں لاکھوں لوگ صاف پینے کے پانی کے بغیر

سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ جب تک دریا میں قدرے شفاف پانی نہیں بہتا اس وقت تک شہر کے بیشتر علاقوں تک پانی کی سپلائی بحال نہیں کی جا سکتی

لاطینی امریکی ملک چلی میں شدید طوفانی بارشوں اور تودے کھسکنے کے سبب ایک اہم دریا کا پانی آلودہ ہو گیا جس کی وجہ سے دارالحکومت سانتیاگو کے لاکھوں لوگوں کو پینے کا صاف پانی ملنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

سانتیاگو شہر سے گزرنے والا دریائے مائیپو کا پانی بارشوں کے وجہ سے اس قدر آلودہ ہو گیا ہے کہ حکام کو صاف پانی کی فراہمی روکنا پڑی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک دریا میں قدرے شفاف پانی نہیں بہتا اس وقت تک شہر کے بیشتر علاقوں تک پانی کی فراہمی بحال نہیں کی جا سکتی۔

مقامی انتظامیہ نے جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے اس وقت تک علاقے کے ہوٹل اور ریستوران بند کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ رہائشوں نے بوتل کا پانی خریدنا شروع کیا ہے۔

اس صورت حال کی وجہ سے پیر کے روز سکول بھی بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ہنگامی حالات سے متعلق محکمے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پہاڑ سے نیچے تیز رفتاری سے بہنے والے پانی سے متعدد سڑکیں بھی کٹ گئی ہیں جس سے ہزاروں لوگ دوسری آبادیوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی رہائشوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

سانتیاگو کے گورنر کلادیئو اوریگو کا کہنا ہے کہ 'پانی منقطع ہونے سے تقریباً 15 لاکھ گھر کے متاثر ہونے کا امکان ہے، اس کا اثر تقریباً 30 اضلاع تک ہو گا۔'

انھوں نے مزيد کہا: 'ہمیں ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ پینے کا صاف پانی کب تک بحال ہو پائے گا۔ جب تک دریائے مائیپو میں صاف پانی بہنا نہیں شروع ہوتا اس وقت تک ہم دوبارہ سروس کیسے شروع کر سکتے ہیں۔'

حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سروس دوبارہ شروع کرنے کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ موسم کیسا رہتا ہے اور پہاڑوں پر طوفانی بارشیں تھم جاتی ہیں یا نہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق سیلاب کے سبب چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں