برطانوی شہری جرمن شہریت کے لیے کوشاں

جرمنی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ میں بریگزٹ پر بحث کے دوران اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ملک میں یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے افراد کا، جن میں سے تقریباً تین لاکھ کا تعلق جرمنی سے ہے، کیا ہوگا مگر جرمنی میں موجود ایک لاکھ برطانوی شہری کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ بی بی سی کے نامہ نگار ڈیمیئن میگنس کا کہنا ہے کہ بہت سے برطانوی شہری جرمنی کی شہریت کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔

'تو تم جرمن کب بن رہے ہو؟' یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج کل برلن میں موجود میرے برطانوی دوستوں کے ساتھ بات چیت کے دوران اکثر ابھر آتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تو جرمن شہریت کی درخواستیں جمع کروا رہے ہیں یا وہ دن گن رہے ہیں جب وہ یہ درخواست جمع کروانے کے اہل ہو جائیں گے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ وہ تارکینِ وطن نہیں جو اپنی سفید جلد پر سورج کے مزے لوٹنے کے بعد سنہرا ورق چڑھائے، ایک ہاتھ میں جِن اینڈ ٹانک کا گلاس اور دوسرے میں گالف کی چھڑی لیے عیش کی زندگی گزار رہے ہوں۔ یہ نوجوان فری لانسر ہیں جنھیں فکر ہے کہ اگر انھیں کام کرنے کے لیے ویزا لینا پڑا تو ان کی ملازمت کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ یا پھر ریٹائرڈ پیشنرز ہیں جن کی آمدن پاؤنڈ کی گرتی قیمت سے منسلک ہے۔

ہم دوستوں میں سب سے زیادہ ذمہ دار فرد یعنی ایسمے نے جرمن حکام کے ساتھ اپنی پہلی اپوائنٹمنٹ ریفرینڈم سے ایک ہفتہ قبل رکھی تھی۔ اس نے شہریت کا امتحان دیا، اپنی تمام دستاویزات جمع کروائیں اور چند ہفتے پہلے ہی اپنی مقامی کونسل میں ایک تقریب میں جرمنی کی شہریت حاصل کر لی۔

جس بات نے اسے حیران کیا وہ یہ تھی کہ اس موقعے پر وہ کتنی جذباتی ہوگئیں۔ اس تقریب میں 22 مختلف قومیت کے تقریباً 50 افراد کو جرمن شہریت دی جا رہی تھی اور ان میں شامی، امریکی، عراقی، ترکی، اطالوی، فرانسیسی اور کچھ دیگر برطانوی بھی شامل تھے۔

Image caption ایسمے نے بتایا 'مجھے اس سفر کا خیال آ رہا تھا جو سب لوگ کر کے یہاں تک پہنچے تھے۔ وہ جنگیں جن سے بچ کر لوگ پہنچے تھے۔ اور جرمنی نئی زندگیاں شروع کرنے کے لیے کیا کیا جتن کیے تھے۔'

مقامی میئر نے ایک تقریر کی، سب کو خوش آمدید کہا اور وطن کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور جب انھوں نے جرمن آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام صنف نسل یا قومیت سے بالاتر ہو کر برابر ہیں تو ایسمے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

ایک فنکار نے وہاں موجود لوگوں کے لیے 22 ترانوں کی دھنیں بجائیں مگر تب تک ایسمے تقریباً رو رہی تھیں اور پھر اس نے یورپی یونین کا ترانہ بیتھوون کی دھن اوڈ ٹو جوائے، بجایا اور تب تک ایسمے بالکل ٹوٹ گئی تھیں۔

ایک شدید لبرل خاتون جو عموماً جھنڈے لہرانے یا قومیت کے جارحانہ دکھاوے پر زیادہ خوش نہیں ہوتیں، کے لیے یہ شاید کچھ کم نہیں۔

ایسمے نے بعد میں مجھے بتایا 'مجھے اس سفر کا خیال آ رہا تھا جو سب لوگ کر کے یہاں تک پہنچے تھے۔ وہ جنگیں جن سے بچ کر لوگ پہنچے تھے اور جرمنی نئی زندگیاں شروع کرنے کے لیے کیا کیا جتن کیے تھے۔'

کچھ لوگوں نے خصوصی طور پر اس تقریب کے لیے جرمن آئین سے بیعت سیکھ کر دل سے یاد کر رکھی تھی۔ ایسمے نے کہا کہ اس سے انھیں اپنی مشکلات کی شدت کا موازنہ کرنے کو ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جرمنی زبان سیکھتی دو تارکینِ وطن

ایسمے اور میرے خیال میں جرمن بننے والے زیادہ تر برطانوی شہریوں کے لیے یہ سب ویزوں اور پاسپورٹوں کے لیے ایک پریکٹیکل فیصلہ تھا مگر اب یہ قومیت اور شناخت کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کیا آپ حقیقی طور پر جرمن اور برطانوی دونوں ہو سکتے ہیں؟ اور جرمن ہونے کا مطلب کیا ہے؟

ابھی کچھ ہی چرصہ پہلے تک کسی برطانوی کو یہ کہنا کہ آپ جرمن بن رہے ہیں، گفتگو کو عموماً نازیوں کے بارے میں کسی پرانے لطیفے کی طرف لے جاتا تھا۔ اگچہ کچھ برطانوی شہ سرخیوں میں آج بھی یہی مطلب پنہاں ہوتا ہے، مگر جدید جرمنی کو رواداری کی اقدار کا مرکز سمجھا جاتا ہے، بین الاقوامی، جمہوری، اور پناہ گزینوں کے لیے کھلی ہانہوں والا۔

ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ جرمن چانسلر انگیلا مرکل پر تنقید کرتے ہیں مگر نئے نویلے برطانوی جرمنوں کو وہ ملک پسند ہے جو غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

جرمن شہریت کے ساتھ دوہری شہریت رکھنا یہاں پر قدرے نیا خیال ہے۔ روایتی طور پر جرمن شناخت ایک نسلی خیال ہے جس کا تعلق آپ کے آباؤاجداد سے ہے نہ کہ آپ کہاں پیدا ہوئے۔ تو ایسا لگتا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ کئی شناختوں والے لوگوں کے لیے زیادہ کشادگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

تاہم گذشتہ چند دہائیوں کے دوران جرمنی اس حوالے سے ایک مشکل مگر کامیاب عمل سے گزرا ہے کہ جرمن ہونے کا مطلب کیا ہے۔ انگیلا مرکل اب جرمنی کو تارکینِ وطن کا ملک کہتی ہیں اور ایسے بیان کا کچھ عرصہ پہلے تک بھی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی چانسلر کے منہ سے سننے کا امکان ہی نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2011 میں شہریت حاصل کرنے کی ایک تقریب

آج 20 فیصد جرمن خود کو تارکینِ وطن کی اولاد قرار دیتے ہیں۔ ادھر بریگزٹ کے بعد کا برطانیہ اور ٹرمپ کا امریکہ بظاہر مخالف سمت میں بڑھتے دیکھائی دیتے ہیں۔ یا پھر کم از کم یہاں سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔

جہاں تک میری اپنی شہریت کا سوال ہے، یہ ایک بیوروکریسی میں پھنسا معاملہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرا کثیر السفر ہونا میرا قصور ہپے لیکن ایک گلوبلائزڈ دنیا میں بڑے ہوتے ہوئے میرا خیال تھا کہ پاسپورٹ، سرحدیں، اور شہریت اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔

آج جب میں اپنی درخواست جمع کروانے کے لیے نایاب قسم کی دستاویزات ڈھونڈ رہا ہوں، تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں غلط تھا۔

اسی بارے میں