’رپبلکنز کے خلاف احتجاج اور قومی راز افشا کرنے کے پیچھے اوباما: ٹرمپ

ٹرمپ، اوباما تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption براک اوباما کا مسٹر ٹرمپ کے دعوؤں پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ریپبلکن سیاستدانوں کے خلاف احتجاج اور قومی راز افشا ہونے کے پیچھے سابق صدر براک اوباما کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'میرا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اوباما ہیں کیونکہ ان کے لوگ یقیناً اس کے پیچھے ہیں۔'

٭ٹرمپ صحافیوں کے ڈنر میں شامل نہیں ہوں گے

٭حکومتی اپیل مسترد، سفری پابندیوں کی معطلی برقرار

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ صرف سیاست ہے۔'

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ان دعوؤں کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں دیے اور نہ ہی سابق صدر براک اوباما کی جانب سے ان الزامات پر کوئی ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

اپنے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بجٹ کے منصوبے اور دیگر معاملات پر بھی بات کی۔

ٹرمپ نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے خود کو اے گریڈ دیا جبکہ انھوں نے اپنے پیغام کو پھیلانے کے لیے خود کو سی گریڈ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ بھر میں ٹرمپ کے سات ممالک پر پابندی کے خلاف مظاہرے ہوئے

انھوں نے دفاعی بجٹ کے لیے 54 ارب ڈالر مختص کرنے پر کہا کہ یہ فیصلہ معیشت کو مستحکم کر دے گا۔

وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا اس تقریب میں شرکت کرنا منافقت ہوگی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 اپریل کو میڈیا اور مشہور شخصیات کے لیے وائٹ ہاؤس میں منعقد کیے جانے والے خصوصی عشائیے میں شامل نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ اپنی انتظامیہ یا پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے والی خبروں کو جعلی خبریں کہتے ہیں اور چند روز قبل کہا تھا کہ'جعلی خبریں' عوام کی 'دشمن' ہیں۔

امریکی صدر کا یہ انٹرویو کانگرس سے ان کے پہلے خطاب سے کچھ ہی گھنٹے پہلے نشر ہوا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے خطاب میں ملکی معیشت کو بڑھانے اور کٹوتیوں کے حوالے سے اپنے منصوبوں کی تفصیلات دیں گے۔

ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس بارے میں مزید بتائیں کہ وہ اگلے برس کے لیے 10 فیصد اضافے پر مبنی دفاعی بجٹ کے لیے مزید اور رقم کہاں سے لائیں گے۔ کیونکہ تجویز کردہ کٹوتیاں شاید اس کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔

اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ سے فوجی سامان بنانےوالے ممالک سے بات کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں