شام پر عالمی پابندیوں کی نئی کوشش، روس اور چین کا ویٹو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس اور چین نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام میں شام پر عالمی پابندیاں عائد کرنے کی مغربی ممالک کی نئی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایسا ساتویں مرتبہ ہوا ہے کہ روس نے شام پر پابندیوں عائد کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ میں پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کیا ہے۔

٭روس شام میں کیا کر رہا ہے؟

دوسری جانب چین بھی شام میں سنہ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے چھ مرتبہ اس قسم کی قراردادوں کو مسترد ہے۔

شام نے سنہ 2013 میں روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت یہ رضامندی دی تھی کہ وہ اپنے کیمیائی ہھتیاروں کو تلف کر دے گا۔

روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ شام کے خلاف پابندیاں ’مکمل طور پر نامناسب‘ ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے صرف امن مذاکرات کو نقصان اور اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔‘

تاہم اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکی ہیلے نے کہا ہے کہ ’یہ ایک مایوس کن دن ہے جب اپنے ہی لوگوں کو مارنے والی رکن ریاستوں کے لیے دوسرے ارکان بہانے بنا رہے ہیں۔‘

’دنیا اب یقینی طور پر زیادہ خطرناک جگہ ہے۔‘

برطانوی سفیر میتھیو ریکرافٹ نے کہا ہے کہ ’کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف کارروائی نہ کرنا بین الاقوامی برادری کے انٹرنیشنل قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے کے یقین کو کمزور بنا رہا ہے، اور ان حملوں کی زد میں آنے والے شامیوں کے بھروسے کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں