شاہ سلمان کے دورہ انڈونیشیا کا چرچا کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب کے بادشاہ 47 سال بعد انڈونیشیا کا دورہ کر رہے ہیں اور جہاں ان کے سرکاری دورے پر انڈونیشیا میں چرچا ہے وہیں ان کے بالی کے دورے اور اپنے ساتھ لائے لگژری اشیا کے حوالے سے بھی باتیں کی جا رہی ہیں۔

سلمان بن عبدالعزیز السعود بدھ کو ایشیا کے ایک ماہ طویل دورے کے پہلے مرحلے میں انڈونیشیا پہنچیں گے۔ ایشیا کے دورے کے دوران وہ ملائیشیا، برونائی، جاپان، چین اور مالدیپ بھی جائیں گے۔

انڈونیشیا میں بی بی سی کی نامہ نگار کرسٹین فرانسسکا کے مطابق انڈونیشیا میں لوگ سعودی بادشاہ کے دورے میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔

شاہ سلمان انڈونیشیا 459 ٹن اشیا کے ہمراہ پہنچیں گے جن میں دو ایس 600 مرسڈیز گاڑیاں اور دو بجلی سے چلنے والی لفٹ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی بادشاہ کے سامان کو ہینڈل کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ 459 ٹن سامان میں سے 63 ٹن جکارتہ میں اتارا جائے گا جبکہ 396 ٹن سامان بالی میں اتارا جائے گا۔

ان کے ہمراہ 620 لوگ آ رہے ہیں اور ان کے علاوہ 800 مندوبین جن میں 10 وزرا اور 25 شہزادے شامل ہیں۔

ان کے سامان اور وفد میں شامل افراد کو جکارتہ لانے کے لیے 27 طیاروں استعمال ہوں گے جبکہ بالی لے جانے کے لیے نو طیاروں کا استعمال کیا جائے گا۔

اگرچہ شاہی خاندان اور ممالک کے سربراہان کے لیے لگژری اشیا اور اتنے بڑے وفد کے ساتھ سفر کرنا عام بات ہے لیکن انڈیونیشیا کے کچھ افراد اس کو شاہ خرچی کہہ رہے ہیں۔

آخری بار سعودی بادشاہ نے انڈونیشیا کا دورہ 1970 میں کیا تھا جب شاہ فیصل بن عبدالعزیز صدر سوہارتو کے دورِ حکومت میں جکارتہ آئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں