اوباما کو فرانس کے صدارتی انتخاب لڑنے کی دعوت

اوباما تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق امریکی صدر باراک اوباما چونکہ فرانس کے شہری ہی نہیں ہیں اس لیے وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے

ایک آن لائن مہم میں‎ سابق امریکی صدر براک اوباما کو فرانس میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات لڑنے کے لیے کہا جا رہا ہے جس کی تقریباً 42000 لوگوں نے حمایت کی ہے۔

اس مہم کے پوسٹروں پر صدر اوباما کی سنہ 2008 کی صدارتی مہم کا معروف نعرہ ’ہم کرسکتے ہیں‘ فرانسیسی زبان میں لکھا ہے جو پیرس کے آس پاس نظر آتے ہیں۔

سابق امریکی صدر براک اوباما چونکہ فرانس کے شہری ہی نہیں ہیں اس لیے وہ انتخاب میں حصہ لینے کے اہل ہی نہیں۔

لیکن اس شرارتی مہم کے چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ ان انتخابات کے لیے متاثر کن امیدوار کی کمی نظر آتی ہے۔

اس مہم سے وابستہ ایک شخض نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مہم سے امیدواروں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ’آپ لوگ ہمیں خواب دکھانے میں ناکام ہورہے ہیں۔‘

فرانس میں صدارتی انتخاب کے لیے 23 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اگر پہلے مرحلے کے انتخاب میں کسی ایک امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملتے تو پھرسات مئی کو دوبارہ سبقت لے جانے والے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

اوباما کے لیے آن لائن مہم چلانے والی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ’ابھی بھی ایک صدر کے لیے ووٹ ڈالنا اور کسی ایک امیدوار کے خلاف ووٹ نہ ڈالنا ممکن ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوباما کے لیے مہم چلانے والوں کے مطابق اب تک کوئی موثر امید ثابت نہیں ہوا ہے

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس مہم سے وابستہ ایک شخص نے بتایا کہ کوئی سخت قدم اٹھائے بغیر بھی کچھ اور کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم غیر سیاسی لوگ ہیں، ہم کسی ایک خاص امیدوار کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم ان میں کسی ایک کے بڑے مداح بھی نہیں ہیں۔ یہ مہم تو بس یہ کہنے کا ایک طریقہ ہے کہ اے لوگوں بیدار ہو جاؤ۔ آپ ٹھیک نہیں ہو، اور یہ مہم بھی درست نہیں ہے۔ تو ہم کیوں نہ اوباما کو رکھیں۔‘

اس آن لائن مہم کے وائرل ہونے سے وہ حیرت زدہ ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ فرانسیسی میڈیا نے اس مزاحیہ مہم کو اتنی اہمیت نہیں دی۔

مہم چلانے والوں میں سے ایک شخض نے کہا کہ ’وہ تو اس سے خوش نہیں ہیں جبکہ لوگوں نے اسے بڑی سنجیدگی سے لیا ہے۔‘

فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی رہنما ماری لی پین صدارتی انتخابات میں اب تک کہ سب سے ابھرتی امیدوار سنجھی جا رہی ہیں۔

ان کے حریف دائیں بازو میں میانہ روی برتنے والے امیدوار فرانسوا فیلن کو مالی سکینڈل کا سامنا ہے جس سے اس سے ماری لی پین کی برتری اور واضح ہوتی نظر آرہی ہے۔

لیکن بعض سروے کے مطابق لی پین انتخابات کا پہلا مرحلہ تو جیت سکتی ہیں تاہم اگر دوسرے مرحلے کی نوت آئی تو یہ ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

سوشلسٹ رہنما اور موجودہ صدر فرانسووا اولاند دوسری بار انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں