شامی فورسز کی پیلمائرا کو آزاد کروانے کی ایک اور کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تدمر یا پیلمائرا کے اس قدیمی شہر کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ یہ ایک بار پھر نام نہاد جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلا گيا ہے

شام کی سرکاری فوجیں قدیم پیلمائرا کو نام نہاد دولتِ اسامیہ کے قبضے کے آزاد کرانے کے لیے شہر میں داخل ہو گئی ہیں۔

سرکاری میڈیا اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجیں شہر کے مغرب میں چند کلومیٹر کے فاصلے تک آ پہنچیں ہیں۔

* 'پیلمائرا ایک بار پھر دولت اسلامیہ کے قبضے میں'

* پیلمائرا:رومی دور کے آثار قدیمہ دولت اسلامیہ کے ہاتھوں تباہ

دسمبر میں جہادیوں نے یونیسکو کی فہرست میں شامل اس آثار قدیمہ کی سائٹ پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور اس قدیم شہر کے کچھ حصوں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا تھا۔

سرکاری سکیورٹی فورسز نے روسی فضائیہ کی مدد سے سال بھر پہلے بھی پیلمائرا سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو بھگایا تھا۔

برطانیہ واقع مانیٹرنگ گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ دولتِ اسامیہ نے یہ علاقہ چھوڑ دیا ہے لیکن خودکش حملہ آور اب بھی یہاں ہو سکتے ہے۔

یونیسکو کے مطابق، عہد روما کا اس قدیم شہر پیلمائرا قدیم ثقافت کے لحاظ سے کافی اہمیت رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیلمائرا کا ٹیٹراپائلون

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شام کے قدیم شہر پیلمائرا میں واقع آثارِ قدیمہ میں شامل رومی ایمپفی تھیٹر کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا تھا۔

مارچ 2016 میں جب حکومتی افواج نے پیلمائرا پر قبضہ کیا تھا تو علاقے کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے پوری طرح پاک نہیں کیا جا سکا تھا اور دسمبر 2016 میں شدت پسند تنظیم اس قدیم شہر پر دوبارہ قابض ہو گئی تھی تاہم اُس وقت یہ دونوں یادگاریں اپنی جگہ پر قائم تھیں۔

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے پہلے دور میں اس جگہ پر لوگوں کے سر بھی قلم کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پیلمائرا کا معروف رومی دور کا ایمپفی تھیٹر جس کے سامنے کے حصے کو تباہ کر دیا گیا ہے

اسی بارے میں