اورلینڈو نائٹ کلب کے حملہ آور کی بیوی کی ضمانت پر غم و غصہ

اورلینڈو تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption اس حملے میں 49 افراد مارے گئے تھے

امریکی حکام کے مطابق ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو کے نائٹ کلب میں 49 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دینے والے شخص کی بیوی کو عدالت کی جانب سے ضامنت دہے جانے پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

عمر متین نامی حملہ آور کی اہلیہ نور سلمان کو ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر اپنے شوہر عمر متین کی مدد کرنے اور قانون کا راستہ روکنے کے ساتھ ساتھ دولتے اسلامیہ کی حمایت کا الزام بھی ہے۔

کیلیفورنیا کے وفاقی جج نے فیصلہ دیا کہ نور سلمان عوامی تحفظ کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ تاہم انھوں نے دو دن کے لیے فیصلہ پر عمل درآمد معطل کیا تاکہ پراسیکیوٹر کو اپیل کا وقت مل سکے۔

جون 2016 میں ہونے والا یہ حملہ امریکہ کی حالیہ تاریخ کا بد ترین حملہ تھا۔

اورلینڈو کے پولیس چیف جان مینا کا کہنا ہے کہ وہ نور سلمان کو آزاد کرنے کے اس فیصلے پر کافی مایوس ہیں۔

حملے میں بچ جانے والے شخص کرس ہانسن نے اس فیصلہ پر صدمے کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا ’لوگوں کو منشیات بیچنے کے جرم میں جیل بھیجا جاتا ہے لیکن وہ آزاد ہو گی۔ یہ صورتحال کافی دل دکھانے والی ہے۔ اب راتوں کو دوبارہ سونا مشکل ہوگا۔‘

عمر متین نے پچھلے برس 12 جون کو ہم جنس پرستوں کے ’پلس‘ نامی کلب پر حملے کے دوران دولتِ اسلامیہ سے اطاعت کا اقرار کیا تھا۔

پولیس نے نور سلمان سے گذشتہ سال پوچھ گچھ کے دوران دریافت کیا تھا کہ آیا انھیں اپنے شوہر کے منصوبے کا پہلے سے علم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption جون 2016 میں ہونے والا یہ حملہ امریکہ کی حالیہ تاریخ کا بد ترین حملہ تھا

انھوں نے امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ عمر متین حملے سے قبل انتہاپسندانہ مذہبی رجحانات کی طرف مائل ہونے لگے تھے۔

عمر متین نے تین گھنٹے سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے حملے کے دوران دولتِ اسلامیہ کی اطاعت کا اعلان کیا تھا۔

گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے اٹارنی جنرل لوریٹا لِنچ نے امریکی ٹیلی ویژن ایم ایس این بی سی کو بتایا کہ 'ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہم اس کیس کے ہر پہلو کا جائزہ لیں گے، حملہ آور کی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں تفتیش کریں گے، تاکہ نہ صرف یہ معلوم ہو سکے کہ انھوں نے یہ قدم کیوں اٹھایا، بلکہ یہ بھی کہ اس بارے میں اور کون جانتا تھا، کیا کوئی اور بھی ملوث تھا، اور کیا اس معاملے میں کسی اور کا احتساب ہونا باقی ہے۔'

29 سالہ عمر متین اورلینڈو شہر کے دو گھنٹے کے فاصلے پر واقع قصبے فورٹ پیئرس میں رہتے تھے۔

ان کے والد صدیق متین نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا میامی شہر میں دو مردوں کو ایک دوسرے کو بوسہ دیتے دیکھ کر 'سخت مشتعل' ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں