کم جونگ نام کی ہلاکت: ملائشیا میں شمالی کوریا کا شہری رہا

ری جونگ چول تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ملائیشیا میں پولیس نے شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیے جانے والے شمالی کورین شہری ری جانگ چول کو رہا کر دیا ہے۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل محمد اپندی علی نے کہا تھا کہ ری جانگ چول ایک ’آزاد شخص ہیں‘ کیونکہ ’ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے شواہد موجود نہیں تھے۔‘

٭کم جونگ نام کا قتل،دو خواتین پر فرد جرم عائد

٭کم جونگ نام کی ہلاکت ’15 سے 20 منٹ میں ہوئی‘

حکام کا کہنا ہے کہ ری جانگ چول کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں ملک بدر کیا جائے گا۔

انھیں رہائی کے بعد امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انھیں کب ملک بدر کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی 13 فروری کو ہلاک ہوئے تھے۔ کم جونگ نام کے چہرے پر ایک اعصاب شکن کیمیکل لگایا گیا تھا جس سے ان کی موت ہو گئی تھی۔

ان کی ہلاکت کے تین ہفتے بعد ملائشیا نے حملے کے لیے ان پر اس قدر زہریلے مادے کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے اس پر 'شدید تشویش ہے' کیونکہ اس کیمکل سے سے عام لوگ بھی متاثر ہوسکتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KYODO/AP
Image caption شمالی کوریا کے شہری کو ملک بدر کرنے کے لیے امیگریشن حکام کے حوالے کردیا گیا ہے

ملائیشیا کے پولیس سربراہ خالد ابو بکر نے ری جانگ چول کی رہائی کے لیے کسی سیاسی یا سفارتی دباؤ سے انکار کیا ہے۔

ان کے بارے میں سامنے آیا ہے کہ وہ تین سال سے ملائشیا میں مقیم تھے اور سات فروری کو ان کے ورک پرمٹ کی معیاد ختم ہوئی تھی۔

اس سے قبل ملائشیا کے حکام نے کہا تھا کہ کم جونگ نام کی ہلاکت ميں ملوث دو خواتین پر ان کے قتل کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

ان دونوں خواتین کو ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پولیس کے خصوصی دستوں کی حفاظت میں عدالت میں لایا گیا۔

ملائشیا کے اٹارنی جنرل محمد اپندی علی کے مطابق اگر یہ دونوں قصوروار پائی گئیں تو انھیں موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

عدالت میں جب انھیں الزام پڑھ کر سنائے گئے تو ڈوان تھی ہیونگ نے کہا کہ ’میں الزامات سمجھتی ہوں لیکن میں قصوروار نہیں ہوں۔‘

ملائشیا کو کئی شمالی کورین افراد جن میں ایک سفارتخانے کے اہلکار بھی شامل ہیں کی تلاش ہے جن پر کم جونگ نام کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا شبہہ ہے۔

اس کے علاوہ جمعرات ہی کو ملائشیا نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شمالی کوریا سے آنے والوں کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شمالی کوریا کے شہری اس سے قبل بنا ویزا لیے 30 دن کے لیے ملائشیا جا سکتے تھے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی برنامہ کے مطابق نائب وزیراعظم احمد زاہد حامدی نے کہا ہے کہ اب پیر چھ مارچ سے یہ ویزا پالیسی تبدیل ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں