روسی سفیر سے ملاقاتیں، امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز سے استعفے کا مطالبہ

جیف سیشنز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران دو بار روسی سفیر سے ملاقات کی تھی۔

اس وقت سینیٹر کے عہدے پر فائز جیف سیشنز نے جنوری میں اپنی تصدیقی سماعت کے وقت یہ تعلقات ظاہر نہیں کیے تھے۔

تاہم بدھ کو انھوں نے اس پر بات پر زور دیا کہ ’ان کی مہم کے حوالے سے مسائل پر کسی روسی اہلکار سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔‘

اب روس امریکہ مخالف پروپیگنڈا ختم کر دے گا؟

روس کسی سے لڑائی نہیں چاہتا: پوتن

سینیئر ڈیموکریٹک رہنما نینسی پلوسی نے جیف سیشنز پر ’حلف اٹھانے کے بعد جھوٹ بولنے‘ کا الزام لگاتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملاقاتوں کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے گذشتہ برس کے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت سے متعلق تفتیش کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ کے مخالفین روسی صدر کے ساتھ ان کے روابط کے حوالے سے نکتہ چینی کرتے رہے ہیں

خفیہ معاملات سے متعلق کانگریسی پینل کے اراکین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ کمیٹی ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم اور روس کے درمیان کے مبینہ تعلقات کی تقتیش کرے گی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان اس معاملے کی تفتیش کا مطالبہ کرتے رہے تھے لیکن ریپبلکن ارکان اس کے لیے اب تک رضامند نہیں تھے۔

امریکی میڈیا کے بعض بڑے اداروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے بعض اتحادی مسلسل روسی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے۔

امریکی انٹیلی جنس حکام نے بھی تسلیم کیا تھا کہ ان کے خیال میں روس نے انتخابات کو ٹرمپ کے حق میں کرنے کی کوشش کی۔

لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کوئی بھی نامناسب رویہ نہیں اپنایا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی انٹیلی جنس حکام نے بھی تسلیم کیا تھا کہ ان کے خیال میں روس نے انتخابات کو ٹرمپ کے حق میں کرنے کی کوشش کی

محکمہ انصاف کے مطابق انتخابی مہم کے دوران جیف سیشنز نے دوبار روسی سفارت کار سے بات چيت کی۔ ایک بار سیشن نے اس وقت دفتر میں ان سے ملاقات کی جب وہ سینیٹ میں آرمڈ سروس کمیٹی کے رکن تھے۔

دوسری بار ان کی بات چيت اس وقت ہوئی جب دیگر ممالک کے سفارتکاروں کے ساتھ گروپ میٹنگ ہوئی تھی۔

سرگئی کیزلیکے واشنگٹن میں سنہ 2008 سے روس کے سفارت کار ہیں۔ وائٹ ہا‎ؤس نے ابھی تک اس تازہ معاملے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

انٹیلی جنس کمیٹی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیئر رکن چک شیف کا کہنا ہے کہ اگر یہ خبر درست ہے تو پھر مسٹر سیشنز کو اس معاملے میں ایف بی آئی جو تفتیش کر رہی ہے اس سے اپنے آپ کو فوری طور پر الگ کرلینا چاہیے۔

امریکہ کے خفیہ ادارے ایف بی آئی اور سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی بھی امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے معاملے کی چھان بین کر رہی ہیں۔

امریکی کانگریس کی کمیٹی اس معاملے میں بعض خاص پہلوؤں کی تفتیش کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔

اس کے تحت یہ پتہ کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ آخر کونسی روسی سائبر سرگرمیاں اور دوسرے اقدامات امریکی انتخابات اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کیے گئے تھے۔

کیا روسی سرگرمیوں میں یہ بھی شامل تھا کہ روس کا کسی ایسے امریکی شخص سے رابطہ تھا جس کا تعلق امریکہ کی سیاسی مہم سے رہا ہوا۔

آخر امریکی حکومت نے روس کی ان سرگرمیوں کے رد عمل میں کیا اقدامات کیے تھے اور مستقبل میں اس طرح کی مداخلت سے اپنے آپ اور اتحادیوں کو کیسے محفوظ کیا سکتا ہے۔

آخر اس عمل میں کس حد تک خفیہ معلومات افشا ہوئی ہوں گی۔ اس تفتیش میں انہی اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل مائیکل فلن نے امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی حکام سے بات چیت کے الزامات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا

واضح رہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ روس نے صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو تقویت دینے کے لیے خفیہ طور پر کام کیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں 'وثوق سے' کہہ سکتی ہیں کہ روس نے امریکہ کے حالیہ انتخاب میں ہیکنگ کی تھی۔

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انٹیلی جنس کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے۔

لیکن اس حوالے سے ان پر کافی دباؤ رہا ہے۔ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل مائیکل فلن نے امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی حکام سے بات چیت کے الزامات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں