ویزے کے ساتھ حفاظت کے لیے بھی دعائیں

تصویر کے کاپی رائٹ KRANTI SHALIA VIA AP
Image caption سری نواس کوچیوتوالا پر گذشتہ بدھ کی رات کو حملہ ہوا تھا جس کے فوراً بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔

انڈیا کے جنوبی شہر حیدرآباد میں طالبہ اور آئی ٹی پروفیشنلز گذشتہ ہفتے امریکہ میں ایک نوجوان انڈین انجینیئر کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے وا‏قعے کے بعد سے خوف کا شکار ہیں۔

حیدرآباد کو انڈیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے منگل کو ہلاک ہونے والے انجینیئر سری نواس کوچیوتوالا کی آخری رسومات کے موقعے پر لوگوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نسل پرستی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے درج تھے۔

سری نواس کوچیوتوالا پر گذشتہ بدھ کی رات کو حملہ ہوا تھا جس کے فوراً بعد ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اس وقت وہ ریاست کنساس کے اولاتھے بار میں اپنے ایک دوست کے ساتھ موجود تھے۔

اس واقعے میں سری نواس کے بھارتی دوست آلوک مدسانی اور ایک امریکی شہری زخمی بھی ہوئے۔ حملہ آور ایڈم پورنٹن نے کارروائی کے دوران چلا کر کہا تھا کہ ’اپنے ملک واپس چلے جاؤ۔‘

حیدرآباد میں طلبہ کے لیے امریکہ جانے کی کوششیں کالج سے پہلے سکول کی سطح پر ہی شروع ہو جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption منگل کو ہلاک ہونے والے انجینیئر سری نواس کوچیوتوالا کی آخری رسومات کے موقعے پر لوگوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نسل پرستی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے درج تھے۔

لیکن ان خواہشات اور ماحول میں تبدیلی شہر کے مضافاتی علاقے میں واقعہ چلکر بالاجی مندر میں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔

اس مندر کو ویزا مندر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے کیونکہ امریکہ جانے کے بہت سے خواہشمند ویزے کی درخواست جمع کروانے سے پہلے اپنا پاسپورٹ لے کر یہاں آتے ہیں۔

لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اس مندر کے بھگوان سے پراتھنا کرنے سے ویزا آسانی سے مل جاتا ہے۔ بہت سے پیشہ ور افراد کا کہنا ہے کہ یہاں عبادت کرنے کے بعد انھیں ویزا مل گیا۔

صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد سے یہاں عبادت گزاروں کی تعداد تو کم نہیں ہوئی مگر ان کی دعاؤں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہو گیا ہے۔

بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے مندر کے نگراں سی ایس رنگاراجن کا کہنا کہ ’اب ایک یا دو اضافی دعا شامل کر لی گئی ہے۔ ہم نے ان کی حفاظت کے لیے بھی دعائیں کرنا شروع کر دی ہیں اور یہ بھی دعا کر رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈین شہریوں کے بارے میں خیالات بدل جائیں گے کیونکہ ہمارے لڑکے اور لڑکیاں ہنر مند ہیں۔ وہ امریکی قوم پر بوجھ نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ANIL KUMAR PATWARI
Image caption کہا جاتا ہے کہ اس مندر کے بھگوان کا ویزا لگوانے کا ریکارڈ کافی اچھا ہے۔ بہت سے پیشہ ور افراد کا کہنا ہے کہ یہاں عبادت کرنے کے بعد انھیں ویزا مل گیا۔

سی ایس رنگاراجن کا اشارہ امریکہ میں ایک نئے مجوزہ قانون کی جانب تھا جس کے تحت امریکہ میں انتہائی ہنر مند افراد کی امیگریشن کے حوالے سے تعداد پر حد مقرر کر دی جائے گی جو کہ انڈیا میں آئی ٹی انڈسٹری کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ ان میں تقریباً 70 فیصد ویزے انڈین شہریوں کو ملتے ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق آئی ٹی سے ہوتا ہے۔

بہت سے انڈین شہری اس مجوزہ قانون کو انڈین تارکینِ وطن کی جانب بدلتے رویہ کی عکاسی کے طور پر دیکھتے ہیں اور انھوں نے اسے سری نواس کوچیوتوالا کی ہلاکت سے منسلک کر دیا ہے۔

سری نواس کوچیوتوالا کی والدہ نے ان کی آخری رسومات کے موقعے پر ایک انتہائی جذباتی تقریر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوسرے بیٹے کو امریکہ لوٹنے نہیں دیں گی۔

اور اس خیال والی وہ اکیلی ماں نہیں۔

ایک اور آئی ٹی پروفیشنل کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی بیٹی کو امریکی ویزا مل گیا ہے، وہ پریشان ہیں اور اس پر غور کر رہے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو جانے دیں یا نہیں۔

فورم آف آئی ٹی پروفیشنلز ان حیدرآباد کے سربراہ کرن چندرہ کا کہنا ہے کہ ’پوری آئی ٹی برادری سکتے کے عالم میں ہے اور اس میں طلبہ اور آئی ٹی پروفیشنل دونوں ہی شامل ہیں، جو کہ سب اس امریکی خواب کو دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حیدرآباد میں طلبہ کے لیے امریکہ جانے کی کوششیں کالج سے پہلے سکول کی سطح پر ہی شروع ہو جاتی ہیں۔

کرن چندرہ کو یقین ہے کہ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ غیر امریکیوں کے خلاف ایک نفرت کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔

’انڈیا کی آئی ٹی کمپنیاں بہت سے لوگوں کو امریکہ بھیجتی ہیں۔ اس سے زیادہ اہم یہ کہ انڈین طلبہ امریکی یونیورسٹیوں کو سالانہ 2.4 ارب ڈالر ادا کرتے ہیں۔ امریکی کمپنیاں دکانیں انڈیا میں کھولتی ہیں اور منافع امریکہ لے جاتی ہیں۔ جب امریکی کمپنیاں انڈیا میں مقابلہ کر سکتی ہیں تو انڈین امریکہ میں کیوں نہیں کر سکتے۔‘

ایک انڈین ریکروٹمنٹ کمپنی ہیڈ ہنٹرز کے سی ای او کرس لکشمیکانتھ کا کہنا ہے کہ ملازمت کے بارے میں پریشانی ہوتی ہی ہے مگر زیادہ پریشانی ایچ ون بی ویزا کی ہوتی ہے۔

’بنیادی طور پر اگر اس ویزے کی پالیسی تبدیل کی گئی تو امریکہ جانے والوں کی تعداد کم ہوجائے گی۔ مجوزہ قانون میں ایچ وہ بی ویزا کے لیے درکار تنخواہ کو دگنا کرنے ($65000 سے $120000) سے کمپنیاں انڈین ملازمین کے لیے ویزے نہیں لیں گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حقیقی صورتحال مئی کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

اسی بارے میں