دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مذہبی انتہا پسندی پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رواں صدی کے اختتام پر اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا

ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی آبادی دیگر مذاہب کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس صدی کے اختتام تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔

ایک امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کا 23 فیصد ہے جو سنہ 2050 تک 30 فیصد تک پہنچ جائے گی اور دنیا میں ہر تیسرا شخص مسلمان ہو گا۔

مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کی واحد وجہ ان کی آبادی میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے ساتھ ہی مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

واشنگٹن میں واقع پیو ریسرچ سینٹر کی ایک تحقیق کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے ساتھ ان کی نقل مکانی، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے اثرات اور اسلام کے نام پر تشدد میں ملوث دیگر شدت پسند گروہوں کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں کئی ممالک کی سیاسی بحث میں موضوع بنا ہے۔

اس کے علاوہ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں دنیا کے کئی حصوں میں زیادہ معلومات نہیں ہے جبکہ امریکہ جہاں مسلمانوں کی تعداد قدرے کم ہے وہاں کے لوگوں کے مطابق وہ اسلام کے بارے میں بہت کم یا بالکل نہیں جانتے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 2010 تک دنیا میں مسلمانوں کی کل آبادی ایک ارب ساٹھ کروڑ تھی جو دنیا کی کل آبادی کا 23 فیصد ہے جبکہ اس وقت اسلام عیسائیت کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے جبکہ موجودہ صدی کے اختتام تک مسلمانوں کی تعداد عیسائیوں سے زیادہ ہو جائے گی۔

اس وقت مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ میں مسلمانوں کی تعداد 20 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعددا ایشیا اور مشرق بعید کے خطے میں 62 فیصد ہے جہاں پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، ترکی، انڈیا اور انڈونیشیا جیسے مسلمان ممالک ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی انڈونیشیا میں ہے لیکن اندازے کے مطابق 2050 تک انڈیا میں مسلمانوں کی آبادی 30 کروڑ ہو جائے گی جو کہ کسی بھی ملک میں آباد مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد ہو گی۔

اس کے علاوہ یورپ میں بھی مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے تحت 2050 تک یورپ کی کل آبادی کا 10 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہو گا۔

دنیا میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلمان دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں

مذہب اسلام کے فروغ کی دو بڑی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ یہ ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں۔ دنیا میں ہر مسلمان عورت کے اوسطً 3.1 فیصد بچے ہوتے جبکہ دوسرے تمام مذاہب کو ملا کر یہ اوسط 2.3 بنتی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ 2010 میں پوری دنیا کی 27 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر کی تھی، وہیں 34 فیصد مسلمان آبادی 15 سال سے کم کی تھی اور ہندوؤں میں یہ آبادی 30 فیصد تھی۔ اسے ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کے مقابلے زیادہ تیز رفتار سے بڑھے گی اور ہندوؤں اور عیسائیوں اسی رفتار سے بڑھیں گی جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے بارے میں رائے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے

مسلمان اکثریتی ممالک میں زیادہ تر عوام کی رائے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حق میں نہیں ہے اور اس میں لبنان سرفہرست ہے جہاں آباد تقریباً تمام مسلمان شدت پسند تنظیم کی مخالف ہے جکہ اردن میں یہ شرح 94 فیصد ہے۔

لیکن بعض ممالک میں اکثریت نے دولتِ اسلامیہ کے بارے میں کسی رائے سے انکار کیا اور پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں 62 فیصد ان اپنی رائے دینے سے اجتناب کیا۔

چند ممالک میں دولتِ اسلامیہ کے بارے میں نرم گوشہ بھی پایا جاتا ہے جس میں نائجیریا میں 14 فصید نے شدت پسند تنظیم کی حمایت میں رائے کا اظہار کیا ہے۔

زیادہ تر مسلمان ممالک میں شہری کی رائے ہے کہ عام شہریوں کے خلاف اسلام کے نام پر خودکش حملوں اور بم دھماکوں سمیت تشدد کے واقعات کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے جبکہ چند ممالک میں شہریوں کے خیال میں کبھی کبھار شدت پسندی کے ایسے واقعات کا جواز بنتا ہے۔

اس میں فلسطین میں اسلام کے نام پر تشدد کے حق میں 40 فیصد، افغانستان میں 39 فیصد، مصر میں 29 فیصد اور بنگلہ دیش میں 26 فیصد ہیں۔

دوسری جانب دنیا کے وہ ممالک جہاں پر مسلمانوں کی زیادہ آبادی ہے جیسا کہ یورپی ممالک وہاں اسلامی شدت پسندی کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔اور ان خدشات میں حالیہ برسوں میں قابل ذکر حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ نائجیریا اور لبنان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں اسلامی شدت پسندی کے بارے میں فکرمندی میں اضافہ ہوا ہے۔

مسلمانوں کے بارے میں رائے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

2011 کے ایک سروے میں جائزہ لیا گیا ہے کہ مغربی عوام اور مسلمان ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

مسلمان اکثریتی سات ممالک میں کیے گئے سروے کے مطابق 38 فیصد مسلمان مغربیوں کو خودغرص سمجھتے ہیں۔

اس کے علاوہ 64 فیصد انھیں لالچی، 61 غیر اخلاقی سمجھتے ہیں جبکہ مثبت رائے میں 44 فیصد عورتوں کی عزت کرنے والے، 33 فیصد ایماندار اور 31 فیصد برداشت کرنے والا سمجھتے ہیں۔

جبکہ مسلمانوں کے بارے میں مغربی یورپ کے چار ممالک، امریکہ اور روس کے پچاس فیصد لوگوں کے نزدیک مسلمان پرتشدد، متعصبانہ ہیں جبکہ 58 فیصد کے خیال میں مسلمان لالچی، خودغرض اور غیر اخلاقی ہیں۔

جبکہ صرف 22 فیصد لوگوں نے مسلمانوں کے بارے میں مثبت رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عورتوں کی عزت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ 51 فیصد نے مسلمانوں کو ایماندار اور 41 فیصد نے انھیں کشادہ دل قرار دیا۔

اسی بارے میں