مصر: حسنی مبارک 2011 میں مظاہرین کی ہلاکت کے مقدمے سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 18 دن تک چلے ان مظاہروں کی وجہ سے 30 سال تک اقتدار میں قابض رہنے کے بعد مبارک کو صدر کے عہدے چھوڑنا پڑا تھا

مصر کی سب سے بڑی اپیل کورٹ نے سابق صدر حسنی مبارک کو 2011 کے بغاوت کے دوران سینکڑوں مظاہرین کے قتل کی سازش کے الزام سے بری کر دیا ہے۔

جون سنہ 2012 میں حسنی مبارک کو مظاہرین کو ہلاک کرنے کی سازش کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اس سے اگلے برس تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس مقدمے کو دوبارہ چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔

حسنی مبارک کو مقدمے کا دوبارہ سامنا کرنے کا حکم

حسنی مبارک کو بدعنوانی کے مقدمے میں تین سال قید کی سزا

جمعرات کو اپیل کورٹ کا آنے والے فیصلہ حتمی ہے اس کا مطلب ہے کہ 88 سال کے بزرگ اور بیمار حسنی مبارک کو حراست سے آزاد کر دیا جائے گا۔

حسنی مبارک کو ایک مقدمے میں تین سال قید کی سزا پوری کرنے کے باوجود ایک فوجی ہسپتال میں نظر بند رکھا گیا ہے۔

مئی 2015 میں ایک جج نے فیصلہ سنایا تھا کہ مبارک کو حراست سے رہا کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حسنی مبارک کے حامی

حسنی مبارک کے حامیوں نے ہسپتال کے باہر جشن منایا جہاں انہیں نظر بند رکھا گیا۔

تاہم صدر عبد الفتح السیسی کی حکومت مبینہ طور پر ان کی رہائی میں دلچسپی نہیں رکھتی، کیونکہ اس کے بعد عوامی ردعمل کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

السیسی سابق صدر مبارک کی حکومت میں فوج کے خفیہ ادارے کے سربراہ تھے اور انہوں نے 2013 میں جمہوری طریقے سے منتخب کردہ مبارک کے جانشین محمد مرسی کا تختہ الٹا تھا۔

حسنی مبارک کے طویل اقتدار کے خلاف قاہرہ، سکندریہ، سویز اور مصر کے کئی دیگر شہروں میں ہونے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے فوج کا استعمال کیا گیا تھا جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ 800 سے زیادہ لوگوں کی جان گئی تھی۔

18 دن تک چلے ان مظاہروں کی وجہ سے 30 سال تک اقتدار میں قابض رہنے کے بعد مبارک کو صدر کے عہدے چھوڑنا پڑا تھا۔

مبارک نے مظاہرین کے قتل کے احکامات دینے کے الزامات سے انکار کیا تھا اور زور دے کر کہا تھا کہ تاریخ انہیں ایک محب وطن کے طور پر یاد کرے گا جس نے اپنے ملک کی خدمت بے لوث انداز سے کی۔