’ہوٹل میں آئے، کھانا کھایا، شراب پی اور فرار ہوگئے‘

کارمین ریستوراں تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption ہوٹل کے مالک کے مطابق یہ سب پہلے ہی منصوبہ سازی کے تحت کیا گيا اور بھگدڑ کی شکل میں لوگ بھاگے

سپین میں ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ 120 کے قریب افراد اس کے ریستوران میں کھانا کھانے کے بعد بل ادا کیے بغیر فرار ہو گئے۔

یہ واقعہ سپین کے شمال مغربی علاقے بیمبائبر میں پیش آيا۔

ریستوران کے مالک اینٹونیو روڈرج نے بتایا کہرومینیائی نسل کے لوگوں نے پہلے ہی سے 950 ڈالر کی رقم ادا کر کے کارمین ریستوران بک کروایا تھا لیکن کھانا کھانے کے بعد ابھی ڈیزرٹ یعنی مٹھائی کا دور باقی تھا کہ بقایا رقم ادا کیے بغیر ہی سب کے سب بھاگ نکلے۔

انھوں نے بتایا: 'یہ سب ایک منٹ کے وقفے میں ہی ہوا۔ یہ سب پہلے ہی منصوبہ سازی کے تحت کیا گيا اور بھگدڑ کی شکل میں فرار ہوئے۔'

اینٹونیو کے مطابق انھیں تقریباً دو ہزار یورو کی مزید رقم ادا کرنا تھی۔

روڈرج نے اس واقع کی تفصیل پولیس کو بتائی ہے لیکن باقی پیسہ ملے گا اس کی انھیں امید کم ہی ہے۔

پولیس نے ایک مقامی اخبار کو بتایا ہے کہ ابھی تک کھانا کھانے والے گروپ میں سے کسی سے بھی رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔

مالک کا کہنا تھا کہ ڈنر کرنے والوں نے پہلے سٹارٹر کھایا، پھر کھانا کھایا اور ساتھ میں شراب کی تقریباً 30 بوتلیں پیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 35 برس سے یہ کاروبار کر رہے ہیں لیکن اس سے قبل ان کے ساتھ کبھی ایسا واقعہ پیس نہیں آیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں