کم جونگ نام کی ہلاکت: ’میری گرفتاری ملائیشیا کی سازش تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا کے شہری جانگ چول کو ملائیشیا سے رہائی کے بعد ملک بدر کر دیا گیا تھا

ملائیشیا میں رہائی پانے والے شمالی کوریا کے شہری جانگ چول کا کہنا ہے کہ وہ کم جونگ نام کی ہلاکت کے معاملے میں ملائیشین حکام کی سازش کا نشانہ بنے ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی 13 فروری کو ہلاک ہوئے تھے۔ کم جونگ نام کے چہرے پر ایک اعصاب شکن کیمیکل پھینکا گیا تھا جس سے ان کی موت ہو گئی تھی۔

٭کم جونگ نام کا قتل،دو خواتین پر فرد جرم عائد

٭’کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کوالالمپور میں ہلاک‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جانگ چول کا کہنا ہے کہ جزیرانما کوریا کی تکریم کو نقصان پہنچانے کے لیے انھیں حراست میں لیا گیا۔

جانگ چول نے ان خیالات کا اظہار بیجنگ میں شمالی کوریا کے سفارتخانے میں جمعے کو کیا۔ انھیں ملائیشیا میں رہائی کے بعد ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

ملائیشین حکام کے مطابق ان کے پاس سفری دستاویزات مکمل نہیں تھیں تاہم یہ بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ کم جونگ نام کی ہلاکت میں جانگ چول کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔

سنیچر کی صبح صحافیوں سے گفتگو میں جانگ چول نے کہا کہ تفتیش کاروں نے ان پر جرم قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

'اگر میں ہر چیز تسلیم کر لیتا تو بدلے میں بہ میرے لیے ملائیشیا میں ایک اچھی زندگی مہیا ہو جاتی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے سمجھ لیا کہ یہ ایک سازش ہے اور یہ سازش میرے ملک کی عزت کو کم کرنے کے لیے تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائیشیا کی وزارتِ صحت کے مطابق کم جونگ نام کی ہلاکت اعصاب شکن زہریلے مادے سے کیے جانے والے حملے کے بعد 15 سے 20 منٹ کے اندر ہوئی

جانگ چول نے کہا کہ وہ کیمیائی ماہر ہیں تاہم ملائشیا میں صابن بنانے میں استعمال ہونے والی اشیا کو درآمد کرتے تھے۔

جانگ چول جن کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے وقت ہوائی اڈے پر موجود نہیں تھے۔ وہ واحد شمالی کوریا کے شہری ہیں جنھیں اس قتل کی تفتیش میں حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم ملائیشیا کے حکام شمالی کوریا کے سفارتی عملے سے بھی پوچھ کچھ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں