شام پر مذاکرات کا اختتام، اقوامِ متحدہ پُرامید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کے شام میں سفیر سٹیفن ڈی مستورا شام کے متحارب گروہوں کی ملاقات کی تصویر دکھاتے ہوئے

شام میں اقوامِ متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مستورا نے جینیوا میں شام سے متعلق حالیہ امن مذاکرات کو حوصلہ افزا اور مثبت قرار دیا ہے۔

٭ شام پر عالمی پابندیاں، روس اور چین کا ویٹو

٭شام سے روسی افواج کا ’انخلا‘ شروع

سنیچر کو سامنے آنے والے بیان میں اقوامِ متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مستورا کے مطابق ایک سال بعد ہونے والے مذاکرات میں بات چیت کا عمل سست روی کا شکار رہا اور کوئی بریک تھرو نہیں ہوا تاہم انھوں نے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ٹرین تیار ہے، وہ سٹیشن پر ہے، اپنا انجن گرم کر رہی ہے۔ اسے صرف ایکسلیٹر کی ضرورت ہے۔'

شامی حکومت کا وفد مذاکرات کے بعد کوئی تبصرہ کیے بغیر روانہ ہو گیا۔

ان مذاکرات میں شامی حکومت کا ایک وفد اور تین اپوزیشن گروہوں کے اراکین شامل ہیں جو ان مذاکرات کے آغاز کے موقع پر ہی ایک دوسرے سے ملے تھے۔

اپوزیشن کے رہنما نصر الہاری کا کہنا ہے کہ 'اگرچہ ہم اس دور کو واضح نتائج کے بغیر ختم کر رہے ہیں۔۔۔ تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بہت مثبت تھے۔'

انھوں نے کہا کہ'یہ پہلی بار تھی جب ہم نے گہرائی میں جا کر شام کے مستقبل اور سیاسی اقتدار کی منتقلی پر بات کی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شامی فوج نے حلب کا کنٹرول گذشتہ برس کے اختتام پر حاصل کیا تھا

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی نمائندوں نے پس پردہ شامی حکومت اور اپوزیشن دونوں سے ملاقاتیں کی۔

شام میں اقوام متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مستورا نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ان مذاکرات کو خطے کے اہم ممالک ترکی، روس اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تمام ممالک شامی حکومت یا اپوزیشن کے حامی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ' شام کے اندر اور باہر اب بھی جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فوجی آپشن مسئلے کا حل ہے تو وہ خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔'

یاد رہے کہ تمام فریقین اب مارچ کے آخر میں چار اہم معاملات پر بات چیت کرنے کے لیے دوبارہ ملنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔

ان میں گورننس، قانون کا مسودہ، انتخابات اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملات شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے معاملے کو شامی صدر بشار الاسد کے اصرار پر ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ شامی حکومت تمام باغی گروہوں کو دہشت گرد سمجھتی ہے۔ جبکہ اقوامِ متحدہ نے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ کی حامی النصرہ فرنٹ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور حالیہ مذاکرات میں یہ دونوں گروہ شامل نہیں ہیں۔

ان مذاکرت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ روس، ترکی اور ایران کی رہنمائی میں کزاکستان میں بھی شام کے مسئلے پر مذاکرات کا ایک دور ہوگا۔

اسی بارے میں