’فون کی نگرانی کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے جھوٹے ہیں‘

اوباما تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اوباما انتظامیہ کا یہ اصول تھا کہ ان کی انتظامیہ کا کوئی بھی شخص کسی بھی عدالتی تفتیش میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔: صدر اوباما کے ترجمان کیون لوئس

سابق امریکی صدر براک اوباما کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے فون کالز کی نگرانی کے الزامات بالکل جھوٹے ہیں۔

سابق صدر اوباما کے ترجمان کیون لوئس کا کہنا تھا کہ نہ تو صدر اوباما اور نہ ہی ان کی انتظامیہ کے کسی اہکار نے کبھی کسی امریکی شہری خفیہ نگرانی کا کوئی حکم جاری کیا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ان کے منتخب ہونے سے ایک ماہ قبل ان کی فون کالز ٹیپ کی تھیں۔

سنیچر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ کی ذریعے کہنا تھا کہ ’افسوس ناک! ابھی معلوم ہوا ہے کہ اوباما نے ٹرمپ ٹاور میں میری جیت سے ایک ماہ قبل میرا ’فون ٹیپ کیا‘۔ کچھ نہیں ملا، یہ مشتبہ کارروائی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل عدالت نے فون ٹیپ کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

تاہم امریکی صدر نے اپنے اس دعویٰ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں یا انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کس عدالتی فیصلے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

کیون لوئس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ کا یہ اصول تھا کہ ان کی انتظامیہ کا کوئی بھی شخص کسی بھی عدالتی تفتیش میں کوئی مداخلت نہیں کرتا۔

اس بیان میں بظاہر اس بات کی گنجائش چھوڑ دی گئی ہے کہ ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کی عدالتی تفتیش کی جا رہی تھی۔

چند ہفتے قبل بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے غیر ملکی خفیہ نگرانی کی عدالت (فیسا) سے گذشتہ سال وارنٹ طلب کیے تھے تاکہ ٹرمپ ٹیم میں شامل بعض ارکان کے مشتبہ طور پر روسی حکام کے ساتھ روابط کی نگرانی کی جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے تو وارنٹ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں اکتوبر میں اسے منظور کر لیا گیا تھا۔

اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کیا بعد میں اسے مکمل تحقیقات میں تبدیل کیا گیا تھا۔

فون کالز ٹیپ کرنے کے الزام کے حوالے سے سابق امریکی صدر براک اوباما نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ ’ایک اچھا وکیل اس معلومات سے مقدمہ بنا سکتے ہیں کہ سابق صدر اوباما اکتوبر میں انتخاب سے قبل فون ٹیپ کر رہے تھے۔‘

خیال رہے کہ اس قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ریپبلکن سیاستدانوں کے خلاف احتجاج اور قومی راز افشا ہونے کے پیچھے سابق صدر براک اوباما کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اوباما ہیں کیونکہ ان کے لوگ یقیناً اس کے پیچھے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں