ترک شامی سرحد پر ’لڑاکا‘ طیارہ گر کر تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شام مگ۔23 لڑاکا طیارہ (فائل فوٹو)

ترکی میں حکام کا کہنا ہے کہ شام اور ترکی کی سرحد کے قریب مبینہ طور پر ایک شامی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

شامی فوج کے ایک اہلکار نے ریاستی میڈیا کو بتایا ہے کہ سرحد کے قریب ایک مشن پر گئے طیارے کے ساتھ فضائیہ کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ یہ ایک مگ۔23 لڑاکا طیارہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ کی تلاش جاری ہے جو کہ طیارے گرنے سے قبل اجیکٹ کر گیا تھا۔

شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے ایک باغی گروہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈئو میں ایک طیارے کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

شامی حکومی کے خلاف لڑنے والے شدت پسند گروہ احرار الشام کے ترجمان احمد کرعلی کے حوالے سے ترک خبر رساں ادارے اندولو نے بتایا کہ حکومتی طیارہ شمالی شام میں بمباری کر رہا تھا اور باغی فورسز نے اسے مار گرایا ہے۔

ترکی کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ طیارہ ہاتے صوبے میں صمنداگ کے قصبے کے قریب گرا۔

ہاتے کے گورنے کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر ریسکیو ٹیمیں پہنچی مگر کاک پٹ میں کوئی نہیں موجود تھا۔

وزیراعظم یلدرم کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں کہ طیارہ گرنے کی وجہ کیا ہے اور ممکن ہے کہ یہ موسمی وجوہات سے گرا ہو۔

ترکی شام میں حکومت مخالف فورسز کی حمایت کرتا ہے تاہم ترک فوج کردش باغیوں اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کر رہا ہے۔

امن مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کے شام میں سفیر سٹیفن ڈی مستورا شام کے متحارب گروہوں کی ملاقات کی تصویر دکھاتے ہوئے

گذشتہ ہفتے شام میں اقوامِ متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مستورا نے جینیوا میں شام سے متعلق حالیہ امن مذاکرات کو حوصلہ افزا اور مثبت قرار دیا تھا۔

گذشتہ سنیچر کو سامنے آنے والے بیان میں اقوامِ متحدہ کے سفیر سٹیفن ڈی مستورا کے مطابق ایک سال بعد ہونے والے مذاکرات میں بات چیت کا عمل سست روی کا شکار رہا اور کوئی بریک تھرو نہیں ہوا تاہم انھوں نے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ٹرین تیار ہے، وہ سٹیشن پر ہے، اپنا انجن گرم کر رہی ہے۔ اسے صرف ایکسلیٹر کی ضرورت ہے۔'

شامی حکومت کا وفد مذاکرات کے بعد کوئی تبصرہ کیے بغیر روانہ ہو گیا۔

ان مذاکرات میں شامی حکومت کا ایک وفد اور تین اپوزیشن گروہوں کے اراکین شامل ہیں جو ان مذاکرات کے آغاز کے موقع پر ہی ایک دوسرے سے ملے تھے۔

اپوزیشن کے رہنما نصر الہاری کا کہنا ہے کہ 'اگرچہ ہم اس دور کو واضح نتائج کے بغیر ختم کر رہے ہیں۔۔۔ تاہم میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بہت مثبت تھے۔'

انھوں نے کہا کہ'یہ پہلی بار تھی جب ہم نے گہرائی میں جا کر شام کے مستقبل اور سیاسی اقتدار کی منتقلی پر بات کی۔'

اسی بارے میں