ترک شامی سرحد پر گرنے والے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو بچا لیا گیا

شام تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شام مگ۔23 لڑاکا طیارہ (فائل فوٹو)

شامی فضائیہ کے گر کر تباہ ہونے والے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو جنوبی ترکی کے قریب سے بچا لیا گیا ہے۔ یہ طیارہ ترکی اور شام کی سرحد کے درمیانی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

طیارے کے پائلٹ کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہوئے ہیں لیکن اس کے زندگی خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

ترک شامی سرحد پر ’لڑاکا‘ طیارہ گر کر تباہ

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ طیارہ کن وجوہات کی بنا پر حادثے کا شکار ہوا ۔

شامی حکومت سے لڑائی کرنے والے ایک مذہبی شدت پسند تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز انھوں نے گرایا ہے لیکن سرکاری ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس سے پہلے شامی فوج کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ان کا جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ترکی کے خبر رساں ادارے اندالو کے مطابق طیارے کے پائلٹ کو نو گھنٹے کے بعد تلاش کر لیا گیا اور ان کے ترکی کے ہاتے صوبے کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوبی ترکی میں شام کے گرے ہوئے جنگی طیارے کا ملبہ

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 56 سالہ پائلٹ کا نام محمت سفہان ہے۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم نورایتن جانیکلی نے بتایا کہ حکام تفتیش کر رہے ہیں کہ طیارہ ملک کی حدود میں کس طرح گرا اور وہ کس مشن پر تھا۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ یہ ایک مگ۔23 لڑاکا طیارہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ کی تلاش جاری ہے جو کہ طیارے گرنے سے قبل اجیکٹ کر گیا تھا۔

شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے ایک باغی گروہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ایک طیارے کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

شامی حکومی کے خلاف لڑنے والے شدت پسند گروہ احرار الشام کے ترجمان احمد کرعلی کے حوالے سے ترک خبر رساں ادارے اندولو نے بتایا کہ حکومتی طیارہ شمالی شام میں بمباری کر رہا تھا اور باغی فورسز نے اسے مار گرایا ہے۔

ترکی کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ طیارہ ہاتے صوبے میں صمنداگ کے قصبے کے قریب گرا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں