بحرین میں شہریوں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی منظوری

بحرین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بحرین میں سنہ 2011 کی بغاوت کے بعد سے حکومت مخالف آواز دبانے کے لیے کوششیں کی جاتی رہی ہیں

بحرین کے ایوانِ بالا نے ملکی آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اتوار کو یہ منظوری بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ کی جانب سے مقرر کردہ 40 رکنی مشاورتی کونسل نے دی۔

دو ہفتے قبل بحرین کے ایوانِ زیریں نے بھی معمولی مخالفت کے بعد اس ترمیم کی منظوری دی تھی۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ریاست میں غیراعلانیہ مارشل لا نافذ ہو جائے گا۔

تاہم بحرینی حکومت کے وفاداروں کے مطابق یہ تبدیلی ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ضروری تھی۔

خیال رہے کہ بحرین میں سنہ 2011 کی بغاوت کے بعد سے حکومت مخالف آواز دبانے کے لیے کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

ملک کے سنی العقیدہ حکمرانوں کے خلاف یہ بغاوت ملک کے اکثریتی شیعہ فرقے کی جانب سے وسیع سیاسی حقوق کے حصول کے لیے ہوئی تھی۔

اس کے بعد سے حکومت کی جانب سے شیعہ ناقدین کے خلاف گذشتہ برسوں کے دوران کریک ڈاؤن میں اضافہ دیکھا گيا ہے جس میں ملک کے ممتاز ترین شیعہ عالم شیخ قاسم کی شہریت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں