امریکی پولیس سکھ شخص کے حملہ آور کی تلاش میں مصروف

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس افسر جائے حملہ کے باہر تفتیش کرتے ہوئے

امریکی ریاست سیٹل میں پولیس ایک سکھ شخص پر گولی چلانے والے فرد کو تلاش کر رہی ہے جس نے گولی چلانے کر اس کو کہا 'اپنے ملک واپس جاؤ۔'

تفصیلات کے مطابق حملہ آور نے انڈین نژاد امریکی شہری سے اُس کے گھر کے باہر ملاقات کی اور گولی مارنے سے قبل کچھ گفتگو بھی کی۔

امریکہ: انجینیئر کی ہلاکت پر انڈیا صدمے میں

بتایا جا رہا ہے کہ حملہ آور سفید فام اور مضبوط ڈیل ڈول کا حامل تھا جبکہ اس کا قد چھ فٹ بتایا گیا ہے۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملہ آور نے چہرے پر ماسک پہنا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ پچھلے مہینے امریکی ریاست کنساس میں دو انڈین اینجینئرز پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا اور اس کے بعد انڈیا میں کافی احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بتایا کہ انھوں نے زخمی ہونے والا سکھ شخص ہسپتال میں ہے اور اس کی جان خطرے سے باہر ہے۔ انھوں نے اس شخص کے والد سے بھی بات کی۔

سیٹل کے علاقے کینٹ جہاں یہ واقع رونما ہوا تھا وہاں اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس افسر کین تھامس نے کہا کہ یہ حملہ 'موقع پرست جرم‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

پولیس نے ایف بی آئی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی اس حملہ آور کو ڈھونڈنے میں مدد طلب کر لی ہے اور اس حملے کو 'نفرت آمیز جرم' کے طور پر تصور کیا جائے گا۔

امریکہ میں سکھوں کے ایک گروپ سکھ کولیشن نے پہلے ہی اس حملے کو نفرت آمیز جرم قرار دیا تھا۔

اپنے بیان میں گروپ نے کہا کہ: 'ہم اس حملے کے بعد مقامی اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ہمارے قومی لیڈر اس نوعیت کے نفرت آمیز جرائم روکنے کو اپنی پہلی ترجیع بنائیں۔ '

سیٹل میں سکھ برادری کی رہنما جسمیت سنگھ کا کہنا ہے کہ: 'اس واقع کو سکھ برادری کے خلاف نفرت آمیز جرم کے طور پر تصور کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اگر ہمارے سرکاری ادارے ایسے جرائم کو نفرت آمیز نہیں سمجھیں گے، ہم اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔'

خیال رہے کہ امریکہ میں انڈین برادری نے صدر ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب سکھ برادری کے افراد کو کئی دفعہ مسلمان ہونے کے شبہ میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے بعد بھی خبریں آئی تھیں کہ سکھوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور واقع میں انڈین نژاد امریکی شہری ہریش پٹیل کو ریاست ساؤتھ کیرولینا میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ہریش پٹیل ایک کریانے کی دکان کے مالک تھے۔ انڈیا کے خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے علاقے کے پولیس شیرف بیری پالے کا بیان جاری کیا جنھوں نے کہا کہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ جرم نسلی بنیادوں پر کیا گیا ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں