موصل میں حکومتی دفاتر پر عراقی فوج کا کنٹرول بحال

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موصل عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ ہے

عراقی فوج نے شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری کارروائی کے دوران موصل میں حکومت کے مرکزی دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

یہ پیش قدمی اس گنجان آباد قدیم شہر پر حملے کا راستہ کھول سکتی ہے جہاں اب بھی بہت سے شدت پسند موجود ہیں۔

٭عراقی افواج کا موصل کے ہوائی اڈے پر دوبارہ قبضہ

کارروائی کے آغاز کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر موصل سے ہزاروں شہری نقل مکانی کر رہے ہیں۔

موصل عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری مضبوط گڑھ ہے۔

رواں برس جنوری میں عراقی فوج نے شہر کے مشرقی حصے کا کنٹرول سنبھالا تھا اور اب وہ مغربی حصے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

خراب موسم کی وجہ سے عراقی فوج کی کارروائیاں سست روی کا شکار تھیں تاہم اتوار کو فوج موصل کے مغربی علاقے میں مزید آگے بڑھی ہے۔

عراقی فوج نے حکومتی عمارتوں پر رات کے وقت اچانک حملہ کیا۔ اگرچہ ان عمارتوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ بری طرح تباہ ہو چکی ہیں تاہم یہ عسکری اور فتح کی علامت ہیں۔

عدالت کے قریب موجود سینٹرل بینک کی مرکزی کا کنٹرول بھی فوج کے ہاتھ آ گیا ہے جسے شدت پسندوں نے سنہ 2014 میں اس وقت لوٹ لیا تھا جب انھوں نے شہر پر قبضہ کیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ عدالت دولتِ اسلامیہ سخت فیصلے سنانے کے لیے استعمال کرتی تھی جن میں سنگساری، لوگوں کی گردنیں کاٹنے اور ہاتھ کاٹنے اور انھیں چھتوں سے نیچے گرانا وغیرہ شامل تھا۔

ادھر عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی بھی پیر کو موصل کا دورہ کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب بھی مغربی موصل میں آٹھ لاکھ افراد مقیم ہیں جبکہ صرف گذشتہ ہفتے کے دوران 42 ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں