’سفری پابندیوں کا نیا حکم نامہ بلا جواز ہے‘

سفری پابندی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ویزے کے حصول پر پابندی کو متاثرہ ممالک کے علاوہ اقوامِ متحدہ نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جن چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر نئی 90 دن کے لیے امریکہ کے نئے ویزے کے حصول پر پابندی عائد کی گئی ان میں ایران، لیبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں شامل ہیں۔

سفری پابندی: امریکی صدر ٹرمپ نے نئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے

امریکہ: سفری پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کا فیصلہ برقرار

سفری پابندی کا ایگزیکیٹو آرڈر معطل، امریکی حکومت کا اپیل کرنے کا اعلان

ان چھ ممالک میں سے سوڈان اور صومالیہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کا یہ عمل بِلا جواز ہے۔

امریکی صدر کے اس حکم نامے کے مطابق پناہ گزینوں پر 120 دن کی پابندی لاگو ہوگی جبکہ اس کا اطلاق 16 مارچ سے ہوگا۔

صومالیہ کے صدر محمد عبدلائی محمد جن کے پاس امریکی اور صومالی شہریت ہے نے اس نئی پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 150,000 صومالی شہریوں نے مختلف طریقوں سے ’امریکی معیشت اور سوسائٹی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیں صومالی افراد جنھوں نے امریکہ میں اہم کردار ادا کیا ہے کے بارے میں بات کرنی ہے نا کہ ان چند افراد کے لیے جنھوں نے کوئی مسئلہ پیدا کیا ہے۔‘

صومالی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور اسلامی شدت پسند گروپ الشباب کو شکست دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

دوسری جانب سوڈان کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر کے نئے حکم نامے پر ’شدید افسوس اور عدم اطمینان‘ کا اظہار کیا ہے۔

سوڈانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے شہری امریکہ میں کبھی بھی جرائم یا دہشت گردی میں ملوث نہیں رہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر فلپو گرینڈی کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے عالمی استحکام کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں، ہمیں ایسے رہنما چاہیئں جو ہمدردی دکھا سکیں۔‘

خیال رہے کہ جنوری میں سفری پابندیوں سے متعلق جاری کیے گئے ایک حکم نامے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر شدید افرا تفری کا عالم تھا تاہم اس حکم نامے کو فیڈرل کورٹ نے فروری میں معطل قرار دے دیا تھا۔

ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری جان کیلی نے پیر کو کہا ’یہ حقیقت ہے کہ ہم دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ نہیں ہیں اور ہمارے دشمن اکثر ہمارے خلاف ہماری اپنی آزادیوں اور سخاوت کا استعمال کرتے ہیں۔‘

امریکہ کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا کہنا ہے کہ 300 سے زائد مہاجرین سے ممکنہ دہشت گردی کے جرائم کی تحقیقات کی گئیں تاہم اس کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فہرست میں موجود چھ میں سے تین ممالک ریاستی دہشت گردی کے سپانسرز تھے اور باقی تین نے دولتِ اسلامیہ یا القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں علاقے کا کنٹرول کھو دیا تھا۔

اسی بارے میں