اقوامِ متحدہ کے اعلی اہلکار کا صدر ٹرمپ پر نفرت پر مبنی جرائم کو ہوا دینے کا الزام

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زید رعد الحسین نے خبردار کیا کہ امریکہ کی نئی قیادت کی جانب سے مسلمانوں اور میکسیکنز جیسے گروپوں کو بدنام کیا جا رہا ہے

حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نفرت پر مبنی جرائم کو ہوا دینے اور ججوں اور صحافیوں کو دھمکانے کا الزام عائد کیا ہے۔

بدھ کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایک بہتر قیادت کی ضرورت ہے جو کہ غیرملکیوں سے نفرت اور مذہبی امتیاز جیسے خطرناک چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔

یو این رائٹس کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زید بن رعد زید الحسین کا کہنا تھا کہ 'امریکہ کی نئی انتظامیہ جس طریقے سے حقوقِ انسانی کے کئی معاملات سے نمٹ رہی ہے، مجھے اس پر خدشات ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زید رعد الحسین اقوامِ متحدہ کے وہ پہلے اعلیٰ عہدیدار ہیں جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے عائد کی جانے والی نئی سفری پابندیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نسلی امتیاز، یہود مخالف جذبات اور نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافے جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک مستقل مزاج قیادت ضروری ہے۔

زید رعد الحسین نے خبردار کیا کہ امریکہ کی نئی قیادت کی جانب سے مسلمانوں اور میکسیکنز جیسے گروپوں کو بدنام کیا جانا اور تارکینِ وطن میں جرائم کی شرح زیادہ ہونے جیسے 'جھوٹے دعوے'، غیرملکیوں سے نفرت کی بنیاد پر برے سلوک کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 'صدر کی جانب سے ججوں اور صحافیوں کو دھمکانے کی کوششوں سے خوش نہیں'۔

واضح رہے کہ امریکہ میں بڑے صحافتی اداروں اور آزادی صحافت کے گروپوں نے صدر ٹرمپ پر صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے الزام لگائے ہیں اور ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ زید رعد الحسین اقوامِ متحدہ کے وہ پہلے اعلیٰ عہدیدار ہیں جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے عائد کی جانے والی نئی سفری پابندیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ تارکینِ وطن کی ملک بدری میں تیزی اجتماعی اخراج اور جبری بےدخلی کے مترادف ہو سکتی ہے جو کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

زید رعد الحسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ ایسے اقدامات کا بچوں اور خاندانوں پر برا اثر پڑے گا اور وہ ٹوٹ کر رہ جائیں گے۔

اسی بارے میں