گیارہ سال تک کام کرنے والا ڈاکٹر جعلی نکلا

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

آسٹریلیا میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک مبینہ طور پر آسٹریلوی ہسپتالوں میں ڈاکٹر بن کر کام کرنے والے شخص کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اب ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

شیام اچاریا پر الزام ہے کہ وہ آسٹریلیا آنے سے قبل انڈیا سے ڈاکٹر کا نام اور تعلیمی کاغذات چوری کر کے آئے تھے۔

نیو ساؤتھ ویلز ہیلتھ کا کہنا ہے کہ شیام اچاریا نے 2003 سے 2014 کے درمیان مقامی ہسپتالوں میں کام کرنے کے لیے ان دستاویزات کا استعمال کیا۔ ان کے بقول وہ آسٹریلوی شہریت بھی حاصل کر چکے تھے۔

اس وقت شیام اچاریا کو 30 ہزار آسٹریلوی ڈالز جرمانے کا سامنا ہے لیکن نیو ساؤتھ ویل کے وزیر صحت بریڈ ہیزرڈ کے مطابق بظاہر شیام آسٹریلیا چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

بریڈ ہیزرڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ کافی پریشان کن ہے کہ ایک غیر ملکی ہمارے بارڈر پروٹیکشن کو جعلی پاسپورٹ اور شناخت کے عبور کرتا ہے، اور ان کی شناخت استعمال کرتا ہے جو کہ انڈین شہری اور ڈاکٹر کی تعلیم حاصل کر چکا ہے۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق استعمال کی جانے والی جعلی شناخت سرنگ چیتالے کی تھی جو ماضی میں بطور ڈاکٹر انڈیا میں کام کر چکے ہیں۔

آسٹریلین ہیلتھ پریکٹیشنر ریگولیشن ایجنسی نے نیو ساؤتھ ویلز ہیلتھ کو گذشتہ سال نومبر میں آگاہ کیا تھا کہ وہ مسٹر اچاریا کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

شیام اچاریا 2014 میں مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل نیو ساؤتھ ویلز کے چار سرکاری ہسپتالوں میں کام کر چکے تھے۔

دوسری جانب آسٹریلوی پولیس اور امیگریشن حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ شیام اچاریا کو شہریت کیسے دی گئی۔

بریڈ ہیزرڈ نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ ’ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ شیام اچاریا نے ممکنہ طور پر انڈیا میں کسی میڈیکل کورس میں تربیت حاصل کی ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اہم نکتہ یہ ہے کہ آیا انھوں نے درحقیقت تعلیم مکمل بھی کی تھی یا نہیں۔‘.

اسی بارے میں