آسٹریلیا میں زنانہ ٹریفک سگنلز

تصویر کے کاپی رائٹ GERRY CANTWELL

آسٹریلیا میں خواتین کی ہیئت والے ٹریفک سگنلز کی رونمائی کے بعد سے صنفی برابری کی مہم شروع ہو گئی ہے۔

میلبورن میں تجرباتی بنیادوں پر شروع کیے جانے والے اس پروگرام کے پیچھے کام کرنے والے والے گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ’غیر ارادی تعصب میں کمی‘ لانا ہے۔

لیکن مرکزی شہر میں ان دس سگنلز پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آرہا ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ غیر ضروری ہیں۔

منتظمین کو امید ہے کہ شہر میں پیدل سڑک کراس کرنے والوں کے لیے مختص راستوں پر خواتین اور مردوں کی برابر تصاویر دکھائی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ @SUSANMAURY
تصویر کے کاپی رائٹ @PATRICKMCNALLYHD

ان سگنلز پر کام کرنے والے گروپ کمیٹی فار میلبورن کی چیف ایگزیکٹیو مارٹین لیٹز کا کہنا ہے کہ ’غیر ارادی تعصب سوچ کو مضبوط کرتا ہے اور روز مرہ کے فیصلوں اور رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سگنلز ان مسائل کی جانب مثبت اور عملی انداز میں ہماری توجہ دلائیں گے۔‘

مقامی حکام کی جانب سے حمایت حاصل کرنے والے اس پروگرام کو 12 ماہ کے لیے تجرباتی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے لیکن تمام لوگ اس تبدیلی کا خیر مقدم نہیں کر رہے ہیں۔

میلبورن کے لارڈ میئر رابرٹ ڈوئل نے ہیرلڈ سن کو بتایا کہ ’میں صنفی برابری کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں، لیکن کیا واقعی؟‘

’بدقسمتی سے، میرے خیال میں اس قسم کے اقدامات صرف مذاق کی وجہ بنتے ہیں۔‘

دوسری جانب اس تجرباتی پروگرام پر سوشل میڈیا پر بھی لوگ تنقید کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ CITY OF YARRA

وکٹوریا میں خواتین کے لیے کام کرنے والی وزیر فیونا رچرڈسن نے کہا ہے کہ ’بہت سے چھوٹے لیکن علامتی طور پر اہم طریقے ہیں کہ خواتین کو عوامی مقامات سے نکال دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ خواتین کو عوامی مقامات میں شامل کرنے کے لیے زبردست طریقہ ہے۔‘

ان تجرباتی سگنلز کو منگل کے روز خواتین کے عالمی دن سے قبل نصب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں