ایران چھوڑنے سے انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے تک کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ RSA

نیلوفر ہوی انٹرنیٹ سکیورٹی میں کام کرنے والی ایک غیر معمولی خاتون ہیں۔

ان کا انٹرنیٹ سکیورٹی کمپنی آر ایس اے کی چیف سٹریٹجیک آفیسر بننے کا سفر اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے 11 سال کی عمر میں خود سے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔

مس ہوی کو آج بھی سان فرانسسکو کے ایئر پورٹ پر اکیلے پہنچنا یاد ہے۔

ٹیڈ ایکس کی تقریب میں نیلوفر نے کہا کہ ’ایک اونچی قد اور مونچھوں والے امیگریشن ایجنٹ نے مجھ سے سوال کرنا شروع کیے۔ میں جانتی تھی کہ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میری فیملی کا مستقبل اس انٹرویو پر منحصر کرتا ہے۔‘

نیلوفر کے خاندان والوں نے 1979 کے انقلاب کے فوراً بعد ہی ایران چھوڑ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خاندان والے برطانیہ چلے گئے اور چند ماہ بعد انھوں نے مجھے امریکہ کے لیے ایک پرواز پر سوار کروا دیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ 11 سالہ لڑکی کو امیگریشن والے واپس نہیں بھیجیں گے۔‘

اور ان کا یہ اندازہ صحیح نکلا۔

کسٹم آفیسر نے ان کے ایرانی پاسپورٹ پر سٹیمپ لگائی اور اس طرح انھوں نے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔

جو پہلا کام انھیں کرنا تھا وہ کیلیفورنیا کو اپنانا تھا، جو ان کے مطابق ایسی جگہ ہے جہاں ’آپ کو کھانے میں بفے ملتا ہے اور آزاد خیالی عام تھی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میں کمپیوٹر روم میں خوش تھی۔‘

’میں ایک تارک وطن تھی، لڑکیوں کے ایک سکول میں جگہ بنانے کی کوشش کی اور کمپیوٹر روم محفوظ جگہ تھی۔‘

تاہم بعد میں 17 سال کی عمر میں نیلولفر نے مکمل طور پر الگ سمت اختیار کر لی۔

انھوں نے کچھ چیزیں ’تبدیل‘ کر کے سی وی بنائی اور سٹیون سپیلبرگ کے لیے کاسٹنگ اسسٹنٹ کی نوکری کے لیے درخواست جمع کروا دی۔

’میری پیدائش کے سال کو 1968 کی جگہ 1966 کیا تاکہ میں قانونی طور پر فل ٹائم ملازمت کر سکوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے سچ سے زیادہ سے زیادہ قریب رہنے کی کوشش کی۔‘

انھیں نوکری مل گئی اور تقریباً آٹھ ماہ تک وہ سکول، اور ٹی وی کے لیے کاسٹنگ کے درمیان دوسری نوکری بھی کرتی رہیں۔

یو سی ایل اے کورس نے انھیں ہائی سکول کے مقابلے میں زیادہ آزادی دی اور جب بھی انھیں امتحان کے لیے جانا ہوتا تو وہ اپنے باس سے کہتی کہ انھیں آج ڈاکٹر سے ملنا ہے۔

مس نیلوفر سائبر سکیورٹی کمپنی اینڈگیم کے ساتھ ملاقات کرنے گئی تھیں تاکہ ان سے سرمایہ کاری کے بارے میں بات کر سکیں۔ تب ہی انھیں وہیں پر چیف ایگزیکٹیو کی جانب سے انھیں نوکری کی پیش کش کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MACK STAPLES SR

چیف ایگزیکٹیو نے کہا : ’پیسہ بنانا کوئی مسئلہ نہیں ہے مجھے تو ایک بزنس پارٹنر کی ضرورت ہے۔‘

نیلوفر نے چیف سٹریٹیجک آفیسر کے عہدہ کی نوکری قبول کی اور اس طرح وہ ایک بڑی سائبر سکیورٹی کمپنی آر ایس اے میں چلی گئیں۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں نو سال گزارنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران ان کی ملاقات ’بہت کم‘ کمپنیوں کی بانی خواتین سے ہوئی۔

تاہم انھوں نے خواتین سے درخواست کی کہ وہ انٹرنیٹ سکیورٹی کے بارے میں خاص طور پر غور کریں۔

انھوں نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کو محفوظ بنانا ایک مشن تھا جو خواتین کو اچھا لگتا ہے۔‘

وہ اسے اس طرح بیان کرتی ہیں: ’ایسا مسلہ حل کرنا جو دنیا کو محفوظ بنائے، ہماری ذاتی زندگیاں محفوظ بنائے اور آن لائن ہمارے بچوں کو محفوظ بنائے۔‘

انٹرنیٹ سکیورٹی کمپنیوں کو خالی آسامیاں بھرنے میں دشوری ہو رہی ہے اور نیلوفر کے بقول ورکرز کی ڈیمانڈ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

ایک 13 سالہ بچے کو کمپیوٹر روم میں اب اس سے کہیں زیادہ تحفظ چاہیے جتنا کہ نیلوفر کو اپنے بچپن میں چاہیے تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں