سی آئی اے کی ہیکنگ سے متعلق معلومات افشا کرنے کی فوجداری تحقیقات کا آغاز

سی آئی اے تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسیوں نے سی آئی اے کی ہیکنگ سے متعلق دستاویزات منظرعام پر آنے کی فوجداری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق وکی لیکس کی جانب سے ہزاروں دستاویزات جاری کرنے کی تحقیقات میں سی آئی اے اور ایف بی آئی ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں۔

سی آئی اے کے’ ہیکنگ میں استعمال ہونے والے خفیہ ہتھیار‘

’صارفین کی نجی معلومات کا تحفظ اولین ترجیح ہے‘

چند امریکی حکام نے مقامی میڈیا کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ فوجداری تحقیقات میں دیکھا جائے گا کہ کس طرح فائلز وکی لیکس کی تحویل میں آئیں جبکہ تحقیقات میں یہ بھی معلوم کریں گے کہ آیا یہ خلاف ورزی سی آئی اے کی اندر سے ہوئی یا باہر سے۔

منظرعام پر لائی جانے والی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کے پاس سمارٹ فونز سے لے کر ٹی وی کے مائیکرو فونز کو ہیک کرنے کے طریقہ کار موجود ہیں۔

سی آئی اے، ایف بی آئی اور وائٹ ہاؤس نے افشا ہونے والی دستاویزات کے مصدقہ ہونے کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔

سی آئی اے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وکی لیکس کی جانب سے انٹیلی جنس کمیونٹی کی امریکہ کو دہشت گردوں اور دیگر مخالفین سے تحفظ دینے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے لیے کچھ بھی منظرِ عام پر لانا امریکی عوام کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’اس طرح کے انکشافات نہ صرف امریکی اہلکاروں اور آپریشنز کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ ہمارے مخالفین کو ایسے آلہ کار اور معلومات سے لیس کرتے ہیں جس سے وہ ہمیں نقصان پہنچا سکیں۔‘

وکی لیکس کی جانب سے شائع کیے جانے والے سی آئی اے کے ہیکنگ کے مبینہ ہتھیاروں میں ونڈوز، اینڈرائڈ، ایپل کے آئی او سی آپریٹنگ سٹسم، او ایس ایکس، لینکس کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ روٹرز کو متاثر کرنے والے وائرس یا نقصان دے سافٹ وئیر بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAMSUNG
Image caption وکی لیکس کے مطابق سام سنگ کے سمارٹ ٹی وی کو بھی ہیک کیا گیا

وکی لیکس کا کہنا ہے کہ اس کے ذرائع نے معلومات کا تبادلہ کیا ہے تاکہ اس بحث کو شروع کیا جا سکے کہ آیا سی آئی اے کی ہیکنگ صلاحتیں اس کو حاصل اختیارات سے تجاوز ہیں۔

سام سنگ، ایچ ٹی سی، سونی کی تیار کردہ مصنوعات ہیکنگ میں متاثر ہوئی جس کی مدد سے سی آئی اے واٹس ایپ، سگنل، ٹیلی گرام، ویئبو اور چیٹ کی دیگر ایپس پر ہونے والی چیٹ یا بات چیت کو پڑھ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی آئی اے نے آئی فونز، آئی پیڈز کو ہدف بنانے کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا جس کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا تھا کہ صارف کس جگہ موجود ہے، ڈیوائسز کے کمیرے اور مائیکرو فون کو آن کیا جا سکتا تھا اور فون پر ٹیکسٹ پیغامات کو پڑھا جا سکتا تھا۔

وکی لیکس کی جانب سے معلومات افشا کرنے پر ایپل نے اپنے تفصیلی ردِعمل میں کہا ہے کہ اس نے پہلے ہی ان میں سے کچھ کمزوریوں کی تصحیح کر لی ہے جبکہ سام سنگ کمپنی نے کہا ہے کہ 'اپنے صارفین کی نجی معلومات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہمیں اس معاملے کا علم ہے اور ہم اسے جلد حل کر دیں گے۔'

اسی بارے میں